سورۃ الحدید 57۔۔۔ اہل ایمان کی اصلاح ۔۔۔ بہترین کوالٹی کا ایمان اور عمل + دینی جہاد کے لیے اخراجات کی ذمہ داریاں
Surah-57-Al-Hadeed-سورۃ-الحدیدآیات 1-6: ایمان اور اللہ تعالی کی طاقت
آیات 7-24: جہاد کے لیے اخراجات کا حکم ۔۔۔ دنیا پرستی سے اجتناب
جہاد کا معنی ہے جدوجہد۔ دین کی خدمت کے لیے ہم ذہنی ،جسمانی اور معاشی طور پر جہاد یہ ہے کہ ہم تعلیم و تربیت کر سکیں۔
عہد رسالت میں قرآن مجید نازل ہو رہے تھے تو اس وقت دینی جبر موجود تھے، اس لیے اہل ایمان کی حکومت پر ذمہ داری ہوئی کہ وہ مذہبی جبر کو ختم کر سکیں تاکہ ہر انسان آزادانہ طریقے سے سوچ سکے۔
آیات 25-29: بنی ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی امت کے لیے جزا و سزا کا قانون
(Sufism / Monasticism) رہبانیت کی غلطی
Question Answers: mubashirnazir100@gmail.com
Download: https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1t4LonZnX6kYGOewLs1KcaNrJZ8niPF0t
سورۃ المجادلۃ 58۔۔۔ اہل ایمان کی اصلاح اور منافقین کی سازشیوں کو ختم کرنے کا طریقہ کار
Surah-58-Al-Mujadalah-سورۃ-المجادلۃاہل ایمان کی اصلاح اور منافقین کی سازشیوں کو ختم کرنے کا طریقہ کار
آیات 1-4: فیملی کی اصلاح: ظہار کی سزا
(Clear Warning) آیات 5-6: منافقین کی اتمام حجت
آیات 7-11: منافقین کی سیکرٹ پلاننگ اور سازشیں
آیات 12-22: منافقین کی سازش کو ختم کرنے کا طریقہ کار اور اہل ایمان کے نتائج
سورۃ الحشر 59۔۔۔ اہل ایمان کا تزکیہ نفس جبکہ بنی اسرائیل اور منافقین کی فائنل وارننگ، کلیئر وضاحت اور سزا
Surah-59-Al-Hashr-سورۃ-الحشرآیات 1-5: اہل کتاب کے لیے سزا کا اعلان
آیات 6-10: اہل ایمان کے لیے فائنانشل پالیسی
آیات 11-21: منافقین اور اہل کتاب کے ساتھ اہل ایمان کا معاہدہ تاکہ مجرم کو واضح ہو جائے کہ اس نے جرم کیا کرتے رہے ہیں۔
آیات 22-24: اللہ تعالی کی طاقت اور اہل ایمان کا ان سے تعلق
سورۃ الممتحنہ 60۔۔۔ ایمان اور تعمیر شخصیت ۔۔۔۔ عہد رسالت میں اہل مکہ کے مشرکین سے رشتے کا اختتام اور نئے مہاجرین کی انٹیلی جنس
Surah-60-Al-Mumtahinah-سورۃ-الممتحنہایمان اور تعمیر شخصیت ۔۔۔۔ اہل مکہ سے دوستی اور رشتے کا اختتام اور نئے مہاجرین کی انٹیلی جنس
آیات 1-9: اہل مکہ کے منکرین سے رشتے اور دوستی کا اختتام
آیات 10-12: تفتیش کا طریقہ کار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت ہوئی اور مدینہ منورہ میں آپ کی حکومت قائم ہو گئی۔ مدینہ منورہ پر تین مرتبہ مشرکین کا حملہ ہو چکا تھا اور جنگ بدر، احد اور خندق ہو چکی تھیں۔ ان حملوں میں اللہ تعالی کی مدد آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح حاصل ہوئی۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ کے مشرکین سے مزید جنگیں نہیں ہوئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے تو مشرکین نے انہیں روک دیا حالانکہ پورے عرب کے تمام لوگوں پر آزادی تھی کہ وہ حرم شریف میں حج اور عمرہ ادا کر سکیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نمائندے عثمان رضی اللہ عنہ کو مکہ میں بھیجا تاکہ مذاکرات ہو جائیں۔ ان کے رشتے داروں نے کہا کہ آپ عمرہ کر لیں لیکن باقی کسی کو آنے نہیں دیں گے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس وقت تک عمرہ نہیں کر سکتا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل ایمان کو آنے دیں۔ ہم کسی جنگ کے لیے نہیں آئے ہیں۔ مشرکین نے پراپیگنڈا کیا کہ ہم نے عثمان کو قتل کر دیا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے 1500 مخلص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیعت رضوان کر دی کہ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایکشن کریں گے۔
پھر مشرکین گھبرا گئے اور انہوں نے معاہدہ کر لیا جسے صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل نہیں کیا اور وہ زندہ ہیں۔ معاہدہ یہ کیا کہ اب 10 سال تک قریش اہل ایمان سے کبھی جنگ نہیں کریں گے اور پورے عرب کا کوئی قبیلہ خواہ مشرکین یا اہل ایمان سے کوئی معاہدہ کر سکتے ہیں۔ آپ اگلے سال عمرہ کر لیجیے گا۔ اس معاہدے کے مطابق مکہ کے لوگ مدینہ نہیں جا سکتےاور مدینہ سے مکہ بھی نہیں جا سکتے ہیں۔ اس معاہدے کی تفصیل ہم سورۃ الفتح 48 میں پڑھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اس معاہدے کو فتح مبین قرار دیا ہے۔
اس میں خواتین پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ مکہ مکرمہ کی خواتین ایمان لاتیں تو وہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ جاتی تھیں۔ اس پر اللہ تعالی نے سورۃ الممتحنہ میں تربیت کر دی کہ جو لوگ مدینہ آئیں تو ان کے ایمان کو چیک کر لیا کریں تاکہ یہ یقین ہو کہ مخلص اہل ایمان ہی مدینہ منورہ میں داخل ہوں۔
سورۃ الصف 61۔۔۔ جہاد کی تیاری ، اہل ایمان کی اصلاح جبکہ اہل کتاب کی شاندار تاریخ کی بنیاد پر فائنل وارننگ
Surah-61-Al-Saff-سورۃ-الصفجہاد کی تیاری اور اہل ایمان کی اصلاح ۔۔۔ اہل کتاب پر ان کی اپنی تاریخ پر فائنل وارننگ
آیات 1-14: جہاد کی تیاری اور اہل ایمان کی اصلاح
آیات 5-9: اہل کتاب کی غلطیوں سے بچنے کی مثال
آیات 10-14: اہل ایمان کی اصلاح اور اہل کتاب کی فائنل ریزلٹ
لفظ “جہاد” کا معنی ہے جدوجہد۔ دین کے لیے جب انسان جدوجہد کرتا ہے تو یہ جہاد دین کا حصہ ہے۔ جہاد کے طریقہ کار کی کئی شکلیں ہوتی ہیں۔
۔۔۔۔۔ جنگ جسے عربی میں قتال کہا جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔ دعوت، تعلیم اور تربیت میں انسان ذہنی کاوش کرتا ہے تو یہ بھی ذہنی جہاد ہے۔
۔۔۔۔۔ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جہاد کی جدوجہد جاری رہی۔ اس میں جنگیں بھی ہوئی جبکہ دعوت و عزیمت، تعلیم اور تربیت سب ہی اس جہاد کا حصہ رہا ہے جسے آپ اسی سورۃ الصف میں پڑھ سکتے ہیں۔
سورۃ الجمعہ 62۔۔۔ اہل ایمان کی اصلاح ۔۔۔ اہل کتاب پر فائنل وارننگ
Surah-62-Al-Jumma-Friday-سورۃ-الجمعۃآیات 1-4: رسالت کا اعلان
آیات 5-8: اہل کتاب کی فائنل وارننگ
آیات 9-11: اہل ایمان ۔۔۔ جمعہ کے لیے کس طرح عمل کرنا ہے
سورۃ المنافقون 63۔۔۔ منافقین کا رویہ اور اہل ایمان کو سازشوں سے بچانے کا طریقہ کار
Surah-63-Al-Munafiqoon-سورۃ-المنافقونآیات 1-3: جھوٹ
آیات 4-6: تکبر
آیات 7-8: دینی خدمت بالخصوص فائنانشل فنڈ یعنی زکوۃ اور صدقات کو روکنے کی ناکام کاوش
آیات 9-11: اہل ایمان کی اصلاح اور منافقین کے پروپیگنڈا سے بچنے کا طریقہ کار
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کا سلسلہ مکہ مکرمہ میں جاری رہا لیکن وہاں منافقین پیدا نہیں ہو سکے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مکہ مکرمہ میں مشرکین کی بڑی آبادی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن مجید کی دعوت پڑھاتے رہے تو کچھ مخلص لوگ ایمان لائے۔ اس پر مشرکین نے ان پر جسمانی یا نفسیاتی تشدد کرتے رہے۔ اب کسی بھی منکر کو ضرورت نہیں تھی کہ وہ بظاہر ایمان لائیں اور دل میں منافق بنیں کیونکہ انہیں کوئی دنیاوی فائدہ نہیں مل رہا تھا اور ساتھ تشدد وہ کیوں حاصل کرتے۔
مدینہ منورہ میں منافقین پیدا ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکومت مل گئی اور زکوۃ و صدقات کے ذریعے فنڈز بھی بننے لگے جس سے معاشی مشکلات کے لیے لوگوں کی خدمت جاری رہی۔ اس وقت منافقین چاہتے تھے کہ حکومت پر قبضہ کر کے فنڈز حاصل کریں لیکن اس شہر انصار رضی اللہ عنہم کی اکثریت ایمان لا چکے تھے۔ اس لیے سیاستدانوں کو یہی طریقہ سامنے آیا کہ ہم بظاہر ایمان کااعلان کریں اور پھر سازش کے ذریعے حکومت پر قبضہ کر سکیں۔ اللہ تعالی نے منافقین کے رویے کو اس سورۃ المنافقون میں واضح کر دیا تاکہ مخلص صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان منافقین کی سازشوں سے بچ سکیں۔ منافقین کی سازش کا طریقہ بس یہی تھا کہ وہ پروپیگنڈا کے ذریعے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مورال کو توڑ سکیں۔ وہ انہی انصار صحابہ کے قبیلے کے رشتے دار تھے، اس لیے ان کے اثرات آ سکتے تھے جسے اللہ تعالی نے ان کی کامیابی کو ناکام کر دیا۔
سورۃ التغابن 64۔۔۔ ایمان اور تعمیر شخصیت ۔۔۔۔ اہل ایمان کے ذہن میں سوالات اور اللہ تعالی کا جواب
Surah-64-Al-Taghabun-سورۃ-التغابنایمان اور تعمیر شخصیت ۔۔۔۔ اہل ایمان کے ذہن میں سوالات اور اللہ تعالی کا جواب
آیات 1-6: ایمان اور اسی دنیا میں جزا و سزا کا قانون
آیات 7-10: منکرین کا پراپیگنڈا ۔۔۔ آخرت نہیں ہو گی؟
آیات 11-13: اسی زندگی میں مشکلات کی وجوہات
آیات 14-18: اپنی فیملی کے ساتھ حسن سلوک اور دعوت
(Multiplier Investment) آیات 16-18: اللہ تعالی کی راہ میں لوگوں کی خدمت کرنے والے خرچ کا امتحان
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت مدینہ منورہ اور پھر دیگر قبائل میں دعوت پہنچنے لگی تو اس وقت مشرکین اور منافقین کے لیڈرز اپنے مریدوں کو سمجھاتے کہ آخرت کچھ نہیں ہے۔ اگر ہوئی بھی تو ہمارے دیوتا ہمیں بچا دیں گے۔ اس لیے موجودہ زندگی ہی میں انجوائے کریں۔ وہ طنز کرتے کہ اہل ایمان تو کتنی مشکلات میں ہیں کہ ان پر حملے ہوتے رہتے ہیں جبکہ ان سے فنڈز بھی زکوۃ کے نام پر لیے جاتے ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ شامل ہونا بیکار ہے اور ان میں شامل ہونا احمقانہ حرکت ہے۔
اس کے جواب میں اللہ تعالی نے تمام مخلص انسانوں کو قرآن مجید میں موجودہ زندگی کا فائنل رزلٹ ارشاد فرمایا تاکہ وہ خلوص کے ساتھ اللہ تعالی پر ایمان لائیں اور آخرت میں کامیابی اس طرح ممکن ہے۔ لفظ تغابن کا معنی ہے اکٹھا کر لینا اور یہ آخرت میں سب لوگوں نے اکٹھا ہو کر سامنے آنا ہے۔اس کامیابی کا فائنل رزلٹ بھی اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے۔ اسی آخرت کے لیے موجودہ زندگی میں تاریخی ثبوت بھی اکٹھا کر دیا ہے جو قرآن مجید میں موجود ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو موجودہ زندگی میں فائدہ بھی ملا کہ کچھ سالوں تک مشکلات لیکن پھر اس زمانے کی دونوں سپر پاورز رومن اور پرشین ایمپائرز کو شکست کر کے تاجکستان، بلوچستان سے لے کر مراکش تک کے خزانے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس پہنچ گئے۔
سورۃ الطلاق 65۔۔۔ ایمان اور تعمیر شخصیت ۔۔۔۔ فیملی کی مشکلات کا حل + طلاق کی صورت میں شریعت کا قانون
Surah-65-Al-Talaq-سورۃ-الطلاق(Judgment Period) آیات 1-3: عدت کا طریقہ کار
آیات 4-5: حاملہ خواتین اور پیریڈزختم کرنے والی خواتین کے لیے عدت کی لمٹ
آیات 6-7: عدت اور دودھ پلانے سے متعلق معاشی احکامات
آیات 8-12: شریعت کے احکامات کے نتائج
(MCQs) سورۃ البقرۃ 224-237 آیات: طلاق سے متعلق کامن سوالات کاجواب
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ہماری تعمیر شخصیت کر دی ہے۔ جب بھی ہم شادی کرتے ہیں تو میاں بیوی کی زندگی جاری ہوتی ہے اور آپس میں معاہدے کی بنیاد پر شوہر اور بیوی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسی کے نتیجے میں اگلی اولاد پیدا ہوتی ہے جس کی تربیت ہماری ذمہ داری ہوتی ہے۔ عام طور پر آپس کے قانونی معاہدے (نکاح) پر شوہر کی معاشی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیگم اور اولاد پر اخراجات کرتے ہیں۔ اس دوران اگر میاں بیوی میں علیحدگی کرنی پڑے تو پھر اللہ تعالی نے اس کا طریقہ کار سمجھا دیا ہے تاکہ ہم جذباتی لڑائی کی بنیاد پر طلاق نہ کریں بلکہ اسٹیپ بائی اسٹیپ اس طلاق پر عمل کریں تاکہ اختلافات ختم ہو سکیں اور اولاد پر برے اثرات نہ پیدا ہو سکیں۔
اس میں ہمیں چاہیے کہ سورۃ الطلاق کے ساتھ سورۃ البقرۃ کی آیات کا مطالعہ بھی کر لیں کہ اس میں مزید وضاحت موجود ہے۔ قرآن مجید کی اسی شریعت کو حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ فیملی کورٹ میں مقدمے انہی آیات کی بنیاد پر فیصلہ کر سکیں۔
سورۃ التحریم 66: ایمان اور تعمیر شخصیت ۔۔۔۔ اہل ایمان خواتین کی تعلیم و تربیت
Surah-66-Al-Tahreem-سورۃ-التحریمآیات 1-5: اہل ایمان خواتین کی تعلیم و تربیت
آیات 6-9:احتساب کے نتائج اور مخلصانہ رجوع
آیات 10-12: غیر مخلص اور مخلص خواتین کی مثالیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ میں پہنچے اور وہاں آپ نے اسلامی حکومت قائم کر لی۔ اس وقت آپ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کرائسس کا سلسلہ جاری رہا۔ مدینہ منورہ پر تین بڑے حملے ہوئے جنہیں جنگ بدر، احد اور احزاب یعنی خندق کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف قبائل کے دہشت گرد چھوٹے موٹے حملے کر کے جانوروں کی ڈکیتی کر لیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی مدینہ منورہ کے اندر موجود منافقین اپنے جعلی پراپیگنڈا کے ذریعے اسلام کی مخالفت جاری رکھے ہوئے تھے۔
ان منافقین نے خاص طور پر امہات المومنین رضی اللہ عنہن اور کئی صحابیات رضی اللہ عنہن کو ٹارگٹ بنا یا اور ان کے خلاف پراپیگنڈا کرنے لگے۔ اللہ تعالی چاہتا تو فوراً ہی ان منافقین کو قتل کر یا کروا لیتا لیکن اللہ تعالی نے ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر صبر کا امتحان کرنے دیا تاکہ ان کی شاندار پرفارمنس سب انسانوں کو قیامت تک نظر آ جائے۔ 9 سال بعد سورۃ التوبہ میں منافقین پر سزا یہ دی کہ ان کے نام سامنے آ گئے اور ان کی حیثیت ختم ہو گئی۔
منافقین کا مقصد یہی تھا کہ اہل ایمان کے مورال کو تباہ کر سکیں تاکہ وہ حکومت پر قبضہ کر سکیں۔ اس لئے پھر اللہ تعالی نے ان خواتین کی تربیت کے لیے سورۃ التحریم 66 نازل کی۔ اس سے پہلے بھی اس موضوع پر سورۃ النور 24 اور سورۃ الاحزاب 33 کا موضوع یہی تھا۔ لہذا ان خواتین کی تربیت کے ذریعے اللہ نے اگلی جنریشن کی مسلمان خواتین کی تربیت کا انتظام بھی فرمادیا ہے۔ جو خواتین بھی خلوص کے ساتھ اللہ تعالی کے ان ارشادات کا مطالعہ کریں گی تو انہیں اندازہ ہو جائے گاکہ ان کا رویہ بھی کیا ہونا چاہیے؟
قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ الحدید 57: امت مسلمہ میں موجودہ زندگی میں جزا یا سزا + رہبانیت صوفی ازم
قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ الحدید 57: امت مسلمہ میں موجودہ زندگی میں جزا یا سزا + رہبانیت صوفی ازم
قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ المجادلۃ 58: فیملی شریعت + منافقین کی سازش کو ختم کرنے کا طریقہ کار
Financial Policies in Quran قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ الحشر 59: اہل ایمان کے لیے فائنانشل پالیسی
Financial Policies قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ الحشر 59: اہل ایمان کا تزکیہ نفس اور فائنانشل پالیسی
قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ الممتحنہ 60: اہل ایمان کا تزکیہ نفس کہ جہاد میں انٹیلی جنس کا اصول
قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ الصف 61: جہاد اور دعوت کی ذمہ داری + عیسی نے رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی
قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ الجمعہ 62: رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داری اور جمعہ میں ہمارا رویہ کیا چاہیے؟
قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ المنافقون 63: منافقین کا رویہ + اہل ایمان کو سازشوں سے بچانے کا طریقہ کار
قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ التغابن 64: اہل ایمان کے ذہن میں سوالات اور اللہ تعالی کا جواب + فیملی
قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ الطلاق 65: طلاق کا طریقہ کار ۔۔۔ عدت، لمٹ، اولاد اور رویہ + سوال جواب
قرآن مجید کا مطالعہ۔۔۔سورۃ التحریم 66: اہل ایمان خواتین کی تعلیم و تربیت اور تعمیر شخصیت
