سوال: ہم جس دیہات میں رہتے ہیں وہ چھوٹا سا ایک گاؤں ہے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں رہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ کچھ غیر مسلم لوگ ہمیں محبت کے ساتھ مسجد کے لئے پیسے دینے کی کوشش کرتے ہیں آپ ان پیسوں سے مسجد کا کام کروا لو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا غیرمسلم کا پیسہ لے کر مسجد کا کچھ بنایا جاسکتا ہے؟ یا نہیں لینا اور نہیں بنانا؟ اگر وہ زبردستی پیسے دے بھی دیں تو اس کو کہاں پر لگائیں؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمادیجئے۔
جواب: اس مسئلے میں قرآن و حدیث میں کوئی جواب نہیں ہے۔ نہ تو اس کی اجازت دی اور نہ ہی منع فرمایا ہے۔ اس لیے اگرکوئی بھی غیر مسلم حضرات، مسجد کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان میں ایمان کی کوئی رمق موجود ہے تبھی وہ مسجد سے محبت رکھتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں مشرکین مسجد الحرام میں خرچ کرتے تھے اور حج و عمرہ بھی کرتے رہتے تھے۔ اس لیے ان غیر مسلم بھائیوں سے، ان کی مسجد کے ساتھ محبت کی وجہ سے ان کی رقم بھی مسجد میں لگانی چاہیے اور ساتھ ہی انہیں قرآن مجید کا مطالعہ کرانے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ اگر وہ غیر مسلم نہیں پڑھ سکتے تو پھر مسجد کے امام صاحب یا کسی اور پڑھے لکھے مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان غیر مسلم حضرات کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ کر سنائیں ۔ اسی طرح قابل اعتماد احادیث کو پڑھ کر ان غیر مسلم حضرات کو پڑھائیں کہ یہ دعوت کا حصہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ ایمان لے آئیں۔
سوال: میت کے لئے اس کے ورثاء جو دعا کرتےہیں یا اس کی مغفرت اور ایصال ثواب کے لئے قرآن مجید پڑھتے ہیں، کیا یہ ثواب اس کو پہنچتا ہے یا نہیں۔ قرآن و حدیث کے حوالے سے اس کی وضاحت کی جائے؟
ڈاکٹر رفعت نواب، فیصل آباد
جواب: میت کے لیے دعا کرنا سنت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے دعا کرتے تھے۔ پھر وفات کے بعد نماز جنازہ میں بھی میت کے لیے دعا کا حصہ ہوتا ہے۔ اس لیے میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔ اس کے لیے “ایصال ثواب” کا کوئی تصور نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں۔
ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کا اجر تو ہمارا اپنا ہی ہے اور ہمیں ملےگا۔ اس کے لیے کسی میت کو اس کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔ ایصال ثواب کی کوئی حیثیت قرآن و سنت میں موجود نہیں ہے۔ کچھ احادیث میں صرف اتنی اجازت دی ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ میری والدہ حج کرنا چاہتی تھیں لیکن فوت ہو گئیں تو ان کی بنیاد پر میں حج کر لوں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ میت کا اپنا پلان ہو کسی نیک عمل کے لیے، لیکن نہ کر سکیں تو پھر ہم ان کے نیکی کر سکتے ہیں۔ اس کا اجر ہمیں بھی ہو گا اور اس میت کو بھی کہ وہ نیت تو کر چکے تھے۔
Ask any questions through email at mubashirnazir100@gmail.com.
