سوال: قرآن میں فرقہ پرستی کی ممانعت ہے، جبکہ آج مختلف ناموں سے دینی جماعتیں بنی ہوئی ہیں۔ اگر کسی بھی جماعت والے سے پوچھا جائے، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم فرقہ نہیں ہیں ، فرقہ تو دوسرے لوگ ہیں، ہم تو قرآن و حدیث پر عمل کرنے والےہیں ہمارے اکابرین نے بھی قرآن و حدیث ہی کا فہم پیش کیا ہے۔
بعض جماعتوں نے تو نام بھی مسلمین رکھا ہوا ہے اور بعض کے نام ان کے منہج اور مقصد کے مطابق ہیں۔ کیا یہ سب فرقہ پرستی نہیں ہے؟ جبکہ قرآن مجید میں فرقے بنانے پر عذابِ عظیم کی وعید بھی سنائی گئی ہے (آل عمران:105) اور فرقے بنانے والوں سے لاتعلق ہونے کا بھی حکم دیا گیا ہے (الانعام:159) اور کہیں اسے مشرکین کا عمل کہا گیا ہے (الروم:32-33)۔ یہ کیسی بات ہے کہ بندہ مشرکین جیسی روش بھی اپنائے اور جنت میں بھی چلا جائے؟
ڈاکٹر رفعت نواب، فیصل آباد
جواب: آپ نے سوشل سائنسز سے متعلق بہت شاندار سوالات ارشاد فرمائے ہیں۔ سوشیالوجی کے مطابق لفظ جماعت کا عربی میں معنی یہ ہے کہ پورا اجتماعی نظام۔ اردو میں مذہبی لوگ کہتے ہیں اسلامی جماعت تو جب اکٹھے رہ کر کوئی دینی کام کیا جائے تو اس کی عمومی شکل وہ بن جاتی ہے جسے کوئی سیاسی پارٹی، دعوتی پارٹی یا کسی اور نوعیت کی پارٹی کہتے ہے۔
فرقہ اس گروپ کوکہتے ہیں جو کسی مذہب کی کوئی ایک الگ شاخ بن جائے اور اسی مذہب سے متعلق دوسرےلوگوں سے ممتاز ہو کر اپنی ایک شناخت بنانا شروع کر دیں۔ جو لوگ ان کے اپنے گروپ کے اندر ہوں تو انہیں اپنا بھائی بہن سمجھیں، اور جو لوگ ان کے فرقہ سے الگ ہوں تو پھر انکے متعلق منفی رویہ اختیار کریں اور انہیں آہستہ آہستہ اپنا دشمن بھی بنا دیں۔
اب جیسا کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ دینی جماعتیں جو ہیں، وہ محض پارٹی بھی ہو سکتی ہے اور اگر ان کے ہاں کسی خاص تصور پر بہت زیادہ شدت پسندی ہو اور دوسروں کے دشمن بن بیٹھیں تو یہ فرقہ بن جاتی ہے۔ اب اس وقت جماعتیں اور پارٹیاں مختلف شکلوں کی ہیں۔ کوئی تو محض پارٹی ہی ہے اور کوئی فرقہ بھی ہوجاتی ہے۔ ہر پارٹی کے لیے پارٹی یا جماعت میں سے جو نام کہنا ہے، کہہ دیجیے کیونکہ جو لوگ ان کی پارٹی میں نہیں ہیں، تب بھی ان سے نفرت نہیں کرتے ہیں۔ ہاں جس پارٹی نے اپنی شناخت کر کے دوسرے لوگوں سے دشمنی پیدا کرلی ہو اور وہ دوسروں کے لئےمنفی رویہ اختیار کریں اور نفرت کریں تو پھر ایسے گروپ کو ہی فرقہ کہا جاتا ہے۔
اب آپ کا یہ کہ کہنا کہ بعض جماعتوں نے تو نام بھی مسلمین رکھا ہوا ہے اور بعض کے نام ان کے منہج اور مقصد کے مطابق ہیں۔ تو اس معاملے کو یوں سمجھ لیجئے کہ اگر تو وہ لوگ اپنے سے مختلف لوگوں سے نفرت نہ کریں بلکہ انہیں بھی مسلمان ہی سمجھیں تو پھر یہ سب مسلمین ہی ہیں خواہ وہ اس پارٹی کا حصہ ہوں یا نہ ہوں۔ سب سے ہی محبت کرتے ہوں اور سب کو برابر مسلمان ہی سمجھتے ہوں تو پھر وہ فرقہ نہیں ہے بلکہ محض پارٹی ہی ہے۔ اگر وہ دوسروں سے شدت پسندی کر کے نفرت کرنے لگے اور مسلمان نہ سمجھیں تو پھر سمجھ لیجئے کہ یہ پارٹی اب فرقہ بن گئی ہے۔چنانچہ فرقہ بنانا اور فرقہ پرستی کرنا ہمارے دین کے خلاف ہے اس لئے اس عمل سے بچنا چاہئے اور دوسروں کو بھی بچنے کی دعوت دینی چاہئے۔
سوال: فرقے کیسے بنتے ہیں؟
جواب: یہ تو میں آپ کی خدمت میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ پہلے شناخت بنائی جاتی ہے اور پھر آگے جا کر شدت پسندی ، دوسروں سے نفرت اور فرقہ پرستی کی جاتی ہے۔ اصل میں یہ فرقہ پرستی کا جرم بہت سے سیاسی اور مذہبی لیڈرز ہی ایجاد کیا کرتے ہیں ۔ ایک گروپ میں جب ایک شخص لیڈر کے عہدے پر پہنچ جاتا ہے لیکن جب اسے اکثریت نے اپنا ہیڈ نہیں بنایا تو اس نے اپنی الگ پارٹی ایجاد کر لی۔ اب اس کے جو بھی پیروکار بنے تو انہوں نے پہلے پارٹی بنائی ، پھر ادارہ اور بعد میں فرقہ بنا بیٹھتے ہیں۔ اس کے بعد پھر انہیں یہ خطرہ محسوس ہوتا ہےکہ ان کے پیروکار کہیں ان سے بھاگ نہ جائیں تو پھر وہ تقلید اور نفسیاتی غلامی کے طریقے استعمال کرتے ہیں تاکہ ان کے پیروکار ان کے ہمیشہ پیروکار ہی بنے رہیں۔
یہ سلسلہ صرف مسلمانوں کے ہاں ہی نہیں ہے بلکہ تمام مذاہب جیسے عیسائی، یہودی، ہندو مت، بدھ مت بلکہ ملحدین کے ہاں بھی یہی طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔
اس لیے ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ اس فرقے کا لیڈر ہی سب سے بڑا مجرم ہوتا ہے۔ پھر اس کے پیروکاروں میں سے جو سینئر پوزیشن پر آئے تو وہ دوسرے درجے کے مجرم ہیں۔ ان کے اسسٹنٹ تیسرے درجے کے مجرم ہیں۔ اس کے بعد آخر میں عوام پیروکار ہیں جن کا جرم چھوٹا ہے۔ انہیں بچپن سے ہی تقلید اور نفسیاتی غلامی کی بیماری میں مبتلا کردیا جاتا ہے اور وہ بیچارے جب تک زندہ رہتے ہیں تو اسی تقلید کے ساتھ تعصب اختیار کئے رہتے ہیں۔ جس طرح جسمانی بیماریاں ہوتی ہیں، اسی طرح نفسیات کی بھی الگ الگ بیماریاں ہوتی ہیں۔
اس بنیاد پر اللہ تعالی آخرت میں ہر ہر انسان کو چیک کرتے ہوئے رزلٹ دے دیں گے کہ اس کے جرم کا سائز کیا ہے اور اس کے لحاظ سے انہیں اس حساب سے سزا ملے گی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے بتا دیا ہے کہ لَا یُکَلِّفُ نَفْساً اِلَّا وُسْعَھَا یعنی ہر انسان کو اس کی استطاعت کے مطابق ہی ذمہ داری عائد کی ہے۔
سوال: حدیث میں آیا ہے بہتر 72 فرقے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں۔ یہ سب کیا معاملہ ہے؟
جواب:ان احادیث میں اصل بات تعداد کی نہیں ہے بلکہ تمام زبانوں میں یہ اسلوب موجود ہوتا ہے کہ بڑی تعداد کے لیے ہم کہہ دیتے ہیں کہ ہزار بندے یا لاکھ بندے اس جلوس میں شامل ہیں وغیرہ۔ اسی طرح راوی حضرات نے بھی ان احادیث میں 70, 72 جو کہا ہے تو یہ وہی اسلوب ہے کہ بڑی تعداد میں فرقے پیدا ہوں گے۔ اب اس حدیث کا یہ معنی نہیں ہے کہ 70 فرقے ہی ہوں گے اور اکہترواں فرقہ پیدا نہیں ہو گا؟ یہاں 72سے مراد یہی ہے کہ بڑی تعداد میں فرقے پیدا ہوتے رہیں گے اور حقیقت میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مسلمانوں کی تاریخ میں کتنے فرقے پیدا ہوئے ہیں۔ بہت سے پیدا ہو کر ختم بھی ہو گئے اور کچھ باقی ہیں۔
موجودہ زمانے میں جتنے فرقے موجود ہیں، ان میں شیعہ اور اہل سنت ہیں جو پہلی صدی ہجری میں پیدا ہوئے تھے۔ اس کے بعد ان دونوں کی شاخیں بنتی گئیں او رکئی شاخیں ختم بھی ہو گئیں اور صوفی گروپس ابھی باقی ہیں۔ اس وقت اکثر شاخیں وہ موجود ہیں جوسن 1000 ہجری کے بعد فرقے پیدا ہوئے ہیں اور ابھی زندہ ہیں۔ اس میں جتنی تحریکیں بنی ہیں، ان سے ہی فرقے پیدا ہوئے ہیں۔ اس کی تفصیل کو آپ اس لنک پرپڑھ سکتےہیں۔
انہی احادیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ جنت میں وہی گروپ پہنچے گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مطابق عمل کرنے والے ہوں گے۔ اب آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہی میں سے کسی کو اپنا فرقہ نہیں بنایا تھا۔ اب جو مسلمان بھی فرقہ واریت کو چھوڑ کر صرف قرآن، سنت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے طریقہ کار میں عمل کرتے جائیں تو انشاء اللہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ رہی غلط فہمیاں تو امید ہے کہ اللہ تعالی انہیں معاف فرما دیں گے۔
اسلامی کتب کے مطالعے اور دینی کورسز کے لئے وزٹ کیجئے اور جو سوالات ہوں تو بلاتکلف ای میل کر دیجیے گا۔
www.mubashirnazir.org and mubashirnazir100@gmail.com
