سوال : السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اُمید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
محمد بن قاسم رحمہ اللہ تعالٰی کی ذات کو جعلی پراپیگنڈا کرنے والے حضرات بہت منفی تبصرے کرتے ہیں ۔ ان کی دیکھا دیکھی ہمارے کچھ بھولے بھالے حضرات بھی ان کی ہمنوائی کرتے ہیں۔ یعنی ان کا کہنا ہے کہ حجاج بن یوسف نے اپنے داماد محمد بن قاسم سندھ کومعروف معنوں میں سیدوں کو قتل کرنے سندھ بھیجا تھا۔ محمد بن سعد کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف نے عطیہ بن سعد بن جنادہ العوفی کو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو سب و شتم (جعلی پراپیگنڈا) کا نشانہ نہ بنانے پر 400 کوڑے لگوائے تھے ۔(تہذیب التہذیب، 4/511)
لیکن عجیب بات ہے کہ عطیہ بن سعد بن جنادہ العوفی کے متعلق امام ابو داؤد کہتے ہیں کہ اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ابو بکر بزار کہتے ہیں کہ یہ شدت پسند تھا۔ امام ساجی کہتے ہیں کہ یہ حجت نہیں ہے اس کے علاوہ یہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم پر مقدم رکھتا تھا۔
تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ عطیہ بن سعد بن جنادہ العوفی وہی شخص ہے جس نے ابن اشعث جو کہ تقیہ کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھا، امیر حجاج بن یوسف کے بغاوت کی تھی ۔ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو امیر حجاج بن یوسف نے سزائیں دیں وہ اسلامی حکومت کے باغی تھے جنہیں گینگ گروپ کے راویوں نے اُمت کا ہیرو بنا کر بنو اُمیہ کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کی کوشش کی۔ دوسرے الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن مزعومہ حضرات نے اسلامی حکومت کے خلاف بغاوتیں کی انہیں گینگ راویوں نے ہیرو بنا کر پیش کیا اور ان پر نافذ ہونے والی بغاوتی سزاؤں کو ظلم و ستم بنا کر مظلوم ہونے کا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ بنو اُمیہ کی اسلامی فتوحات کو داغدار کرنے کے لیے یہ سب کیا گیا تاکہ مزعومہ سید زادوں کی بغاوتوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔
آپ کا اس متعلق کیا خیال ہے ؟
طلحہ خضر
شکریہ
جواب: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ طلحہ بھائی
آپ کی ریسرچ پھر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ تفصیل سے رزلٹ بھی دے دیا ہے۔ عطیہ صاحب کے بارے میں آپ اس لنک میں دیکھ سکتے ہیں کہ محدثین ریسرچرز نے عطیہ صاحب کی ببلیوگرافی لکھی ہے اور ان کے رویے کو چیک کیا ہے۔
أبو أحمد بن عدي الجرجاني : مع ضعفه يكتب حديثه وكان يعد من شيعة الكوفة
اس سے آپ کے ارشادات کا ثبوت مل گیا ہے۔ حجاج بن یوسف بھی ٹارگٹ ہی رہے کیونکہ وہی گورنر تھے جنہوں نے عراق پر کنٹرول کر دیا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے بہت سے باغیوں کو قتل بھی کیا تو پھر ان باغیوں کے ساتھیوں اور اولاد نے نفرت ہی دکھانی تھی۔ محمد بن قاسم رحمتہ اللہ علیہ نے تو کچھ نہیں کیا لیکن وہ حجاج صاحب کے بھتیجے اور داماد بنے تو ان کے خلاف بھی جعلی پراپیگنڈا ہوا۔
آپ کی اس تحقیق یہ یہی واضح ہوتا ہے کہ 300 ہجری تک کے راویوں کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔ اس کی ضرورت مجھے نہیں پڑی کہ اس پراپیگنڈا کے بڑے اثرات موجودہ زمانے میں نہیں ہیں۔ اس لیے میں نے عہد صحابہ رضی اللہ عنہم پر ریسرچ کی اور کتاب لکھی۔ اگلی نسلوں میں پھر منفی تبصروں کو چھوڑ کر صرف اہم واقعات تک ہی لکھے ہیں۔ آپ چاہیں تو یہ ریسرچ کر سکتے ہیں اور اس پر کتاب لکھ لیجیے۔
والسلام
محمد مبشر نذیر
Institute of Intellectual Studies & Islamic Studies (ISP)
Learn Islam to make your career in the afterlife
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اُمید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔
حجاج بن یوسف کی طرف سے عطیہ بن سعد بن جنادہ العوفی کو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے خلاف تنقید نہ کرنے پر 400 کوڑے لگوانے والی روایت کا خالق سعد بن محمد بن حسن بن عطیہ بن سعد بن جنادہ العوفی خود متروک الحدیث ہے۔ اس روایت کو طبقات ابنِ سعد میں اسی سند سے روایت کیا گیا ہے۔(طبقات ابن ِ سعد: 6/304)اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک جعلی روایت ہے۔ثبوت حاضرِ خدمت ہے۔
آپ کا اس متعلق کیا خیال ہے ؟
طلحہ خضر
جواب: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ طلحہ بھائی
آپ بہت عمدہ ریسرچ کر رہے ہیں۔ اسے کتاب کی شکل میں لکھیے گا۔ اس میں مشورہ یہی عرض کروں گا کہ متروک زبان میں نہ لکھیے گا بلکہ موجودہ ماڈرن اردو میں لکھیے گا۔
پہلے لاجیکل آپ سوچ لیجیے کہ حجاج بن یوسف جب 70 ہجری میں عراق کے گورنر بنے تھے، تو اس سے 30 سال پہلے 40 ہجری میں حضرت علی رضی اللہ عنہ باغیوں کے ہاتھوں شہید ہو چکے تھے۔ اب حجاج صاحب کو کیا ضرورت ہو سکتی تھی کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف تنقید کروانے کے لیے لوگوں کو زبردستی بکواس کروانے کی کوشش کرتے۔ جب آپس میں کوئی معاملہ ہی نہیں ہے تو پھر اس قسم کی خرافات لوگوں سے کروانے کی حکومت کو کیا ضرورت ہے؟
ظاہر ہے کہ عراق میں باغی ہی حضرت طلحہ، زبیر، معاویہ اور علی رضی اللہ عنہم سے نفرت کرتے تھے کیونکہ انہوں نے ہی باغیوں کی لٹیا ڈبو دی تھی۔ اس لیے باغیوں نے ہی جعلی پراپیگنڈا کرنے کی ضرورت تھی۔ پھر اس پراپیگنڈا کے لیے حجاج بن یوسف اور محمد بن قاسم کے نام کو استعمال کرتے رہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسا کہ باغی حضرات پرانی مشہور شخصیت کے نام پر جعلی پراپیگنڈا کیے رکھتے ہیں۔
محمد بن حسن بن عطیہ تو عطیہ کے پوتے ہوئے اور عین ممکن ہے کہ وہ اسی گروپ میں رہے ہوں۔ اس میں آپ اسی لنک میں الجرح و التعدیل ضرور دیکھ لیا کریں کہ اس میں صرف احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے تبصرہ کیا ہوا ہے کہ وہ جہمی گروپ کے تھے اور جہمی گروپ تو اب جہمیہ فرقہ نئے فلسفیانہ آئیڈیاز کو پھیلاتے رہے جو قرآن مجید کے خلاف آئیڈیاز پھیلاتے رہے۔
أحمد بن حنبل : جهمى ولم يكن ممن يستأهل أن يكتب عنه ولا كان موضعا لذاك
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%AC%DB%81%D9%85%DB%8C%DB%81
اس کے ساتھ انہی محمد بن حسن بن عطیہ کے اساتذہ اور شاگردوں کو بھی دیکھ لیا کریں تو وہاں بھی جعلی کہانیاں نکل آتی ہیں۔ اسی راوی کے اساتذہ میں دیکھیے ۔
حفص بن سلیمان اور یحیی۔۔۔ متھم بالوضع یعنی جعلی روایات پر الزام۔
حفص بن سلیمان اور یحیی محمد بن حسن بن عطیہ کے اساتذہ تھے۔ یہ ٹیچرز بھی جعلی روایات ایجاد کرتے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ دادا اور اساتذہ کے اثرات تو اسٹوڈنٹ پر آتا ہے۔
اس ریسرچ میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ان گروپوں کے ساتھی سامنے آ جاتے ہیں جو استاد یا شاگرد نکل آتے ہیں۔ مجھے بھی اسی طرح سے گروپس کی انفارمیشن ملی جس سے میں نے تاریخ کی کتابیں لکھ سکا ہوں۔ اس میں پھر آپ ہر گروپ کا شجرہ مل جائے گا۔ اس میں صرف فرقہ واریت حضرات ہی نہیں بلکہ صوفی ازم گروپس کے شجرے بھی اسی طرح سامنے آ جاتے ہیں۔ میں نے پھر اگلی صدیوں میں جو تحریکوں پر کام کیا تو اسی طرح شجرہ سے ہی سارے گینگ کی شکل آ گئی۔
پھر اس میں جو شخص بھی مشہور ہوا تو اس کی کتاب بھی مل گئی جس میں ان کے نقطہ نظر کو سامنے آ گیا۔ پھر کسی کی کتاب نہ ملی لیکن اس کتاب کا نام ہی مل گیا تو پھر مسجد نبوی اور مکہ مکرمہ کی لائبریری میں اس کے مخطوطے ہی مل گئے۔ کئی مخطوطے تو طائف میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی لائبریری میں بھی مل گیا۔ سعودیوں نے اچھا کام کیا کہ مخطوطات کو اسکین کر دیا تاکہ ہر انسان کو آسانی سے مل جاتا ہے۔ جب بھی آپ عمرہ کے لیے گئے تو ان لائبریریوں میں سے ڈھونڈ لیجیے گا۔
والسلام
محمد مبشر نذیر
اسلامی کتب کے مطالعے اور دینی کورسز کے لئے وزٹ کیجئے اور جو سوالات ہوں تو بلاتکلف ای میل کر دیجیے گا۔
www.mubashirnazir.org and mubashirnazir100@gmail.com
