قرآن مجید میں جو احکامات ہیں تو اس میں شریعت پر ریسرچ کیسے کریں؟

السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا حال ہے ؟ اُمید کرتا ہوں آپ  بخیریت ہوں گے۔

ذیل میں میں نے کچھ سوالات تیار کیے ہیں جن کے جوابات مطلوب ہیں۔

یہ سوالات قرآنِ مجید سے اصولِ فقہ کے تعلق، اصولوں کی بنیاد، نصوص کی دلالت اور استنباط کے اصولوں سے متعلق ہیں۔

طلحہ خضر

سوال:  کیا قرآن کے ظاہری الفاظ (ظواہر النص) سے مستقل احکام اخذ کیے جا سکتے ہیں جب کہ سیاق یا سببِ نزول مختلف ہو؟

جواب: وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سیاق و سباق کے بغیر احکام کو سمجھنا ہی مشکل کام ہے کیونکہ اس سے الٹا رزلٹ آ سکتا ہے۔ اس کی مثال آپ دیکھیے کہ سورۃ التوبہ کے شروع میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم تھا کہ ان تمام مشرکین کو قتل کیا جائے اور اس میں سیاق و سباق یہی تھا کہ ان مشرکین کا ذکر تھا جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پہنچ گئی تھی۔ 

اب غلطی یہی پیدا ہوتی ہے کہ لوگ موجودہ زمانے کے غیر مسلموں کو قتل عام کا حکم سمجھ لیتے ہیں لیکن وہ غور نہیں فرماتے ہیں کہ اس میں جنگ شروع کریں تو مسلمانوں کو شکست ہوتی ہے لیکن صحابہ کرام میں شکست نہیں ہوتی تھی۔ 

سبب نزول کا فائدہ سیاق و سباق کو سمجھنا کا ہے۔ یعنی نزول کس وجہ سے نازل ہوا ہے اور کن لوگوں کو یہ حکم دیا گیا ہے۔ ظاہری الفاظ میں غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ وہ کسی کا حکم کچھ اور سمجھ لیتے ہیں اور پھر سیاق و سباق کو بھول جاتے ہیں۔ عربی زبان میں ظاہری الفاظ اور مجازی معنی بھی ہوتا ہے۔ جس جملے میں جو لفظ آتا ہے تو اس کا سیاق و سباق اسے جملے یا آگے یا پیچھے جملے میں وضاحت موجود ہوتی ہے۔ سیاق و سباق کے بغیر غلطیاں آتی ہیں اور جب پورے گینگ میں غلطیاں آ جائیں تو وہ بڑی غلطی بن جاتی ہیں۔ 

سوال : قرآن میں وارد ”مطلق“ اور ”مقید“ نصوص کے باہمی تعارض کی صورت میں کون سا اصولِ ترجیح زیادہ قوی ہے؟

جواب:  پرانی زبان میں آپ جو ارشادات فرما رہے ہیں تو آپ کا سوال واضح نہیں ہے۔ پلیز  آپ ان الفاظ کو ماڈرن اردو میں ارشاد فرمائیں تو جواب عرض کر سکتا ہوں۔ مثلاً یہ الفاظ جیسے وارد، مطلق، مقید، نصوص، تعارض وغیرہ سب متروک زبان ہو چکے ہیں جو پرانے بزرگ بولتے تھے۔  اسے بھی آپ شریعت کی کسی مثال سے واضح کریں کہ کن آیا ت میں فرق آپ کو محسوس ہو رہا ہے جس میں سے کسی ایک آیت کو ترجیح دوں۔ میرے علم میں ہے کہ مطلق سے مراد ہمیشہ کے لیے اور مقید سے مراد کسی خاص ٹائم اور خاص صورتحال سے سے متعلق ہے۔

آپ نے عمدہ طریقے سے واضح کر دیا ہے کہ مثالیں یہ ہیں۔ جب قرآن کی ایک آیت عام (مطلق) ہو یعنی ہمیشہ کا حکم ہے اور دوسری کسی شرط یا حد کے ساتھ (مقید) یعنی خاص صورتحال میں حکم ہے۔

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا

یہاں پر مقید ہے کہ جو چور مرد اور چور عورت پر سزا کا حکم ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چور نہیں ہے تو اس پر سزا نہیں ہے اور یہ ہمیشہ کا حکم یعنی مطلق ہے۔  

فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ

یہاں آیت عام ہے کہ ہر انسان نے اپنی زندگی میں گناہ یا کفر کر کے اپنے آپ پر ظلم کر لیا ہے تو اب توبہ کر لیں اور جان  چھڑا لیں۔  

سوال:  قرآن کی آیاتِ احکام میں نسخ کے وجود پر کیا عقلی و نقلی دلائل ہیں؟

جواب:  نسخ یعنی منسوخ یعنی کینسل کے وجود پر عقلی دلائل خود قرآن مجید میں ہیں۔ اس کی مثال آپ سورۃ الانفال میں پڑھ سکتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جہاد کا حکم دیا تھا اور اس میں لمٹ کر دی کہ آپ کی طاقت اگر مشرکین کی نسبت 10% ہے تو آپ پر جہاد فرض ہے۔ اگلی ہی آیت میں اس کی وضاحت کر دی آپ میں کمزوری آ گئی ہے تو پھر آپ پر جہاد فرض تب  ہو گا جب مجرمین کی نسبت 50% طاقت ہو۔ دیکھیے آیات یہ ہیں۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ ۚ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ. (65)

الْآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ. (66)

اے نبی ! اِن اہل  ایمان  کو (اُس ) جنگ پر ابھاریے (جس کا حکم پیچھے دیا گیا ہے۔  اب  آپ  پر میں  جنگ  بدر  تک  ذمہ  داری  یہ  ہے  کہ) اگر آپ کے لوگوں میں بیس آدمی ثابت قدم ہوں گے تو 200 پر غالب آئیں گے اور اگر آپ کے 100 سپاہی  ہوں گے تو 1000 منکروں پر بھاری رہیں گے، اِس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو بصیرت نہیں رکھتے۔

اِس وقت، البتہ اللہ تعالی  نے آپ  کا  بوجھ ہلکا کر دیا ہے، اِس لیے کہ اُس نے جان لیا کہ (نئے  اہل  ایمان  کی  تربیت  ابھی  نہیں  ہوئی  ہے  اور)  آپ  میں کچھ کمزوری آ  گئی  ہے۔ چنانچہ (اب  ذمہ  داری   کے  بعد  یہ  ہو  گی  کہ)  آپ  100 ثابت قدم ہوں گے تو 200 پر غالب آئیں گے اور اگر آپ  1000 ایسے ہوں گے تو اللہ تعالی  کے حکم سے 2000 پر بھاری رہیں گے۔ اللہ تعالی  اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو (اُس کی راہ میں) ثابت قدم رہیں۔ (سورۃ الانفال)

Badr War 2 Hijri Calender / 624CE

اب آپ دیکھیے کہ اللہ تعالی نے فتوحات کی بشارت دے دی ہے کہ کتنی طاقت ہو تو اللہ تعالی آپ کو زیادہ پاور دے کر فتح کر دے گا۔ اب آپ تاریخ کے لحاظ سے اجتہاد کیجیے کہ کس ٹائم میں مسلمانوں میں کتنی طاقت ہو تو پھر فتح کی بشارت ہے اور کس پر جہاد فرض ہے۔ 

ابھی تک آپ دیکھیے کہ 1750-2025 کی تاریخ میں مسلمانوں اور یورپ یا امریکہ سے متعلق کتنے فیصد ہمارے ہاں طاقت ہے تاکہ ہم پر جہاد کا فرض آ جائے؟ اتنے عرصے میں یہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو مسلسل 300 سال میں جہادی تحریکوں کو نقصان ہی حاصل ہوا ہے اور فتح کبھی نہیں ہو سکی ہے تو کیوں ایسا ہے؟ اس کا جواب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایمان اور نیک عمل کی کوالٹی کیسی تھی اور ہمارے زمانے میں ایمان اور نیک عمل کی کوالٹی کیسی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ 300 سال سے ہمارے جہاد میں شکست آتی رہی ہے۔ ابھی اپنی کوالٹی اس لیول کسی حد تک لے آئیں جس لیول میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان اور عمل کی کوالٹی جیسی تھی تو پھر جہاد میں فتح حاصل ہو گی انشاء اللہ۔

سوال:  قرآن میں نسخ کی پہچان کے لیے کون سے قرائن معتبر ہیں؟

جواب:  قرائن اسی آیت کے ساتھ ہی اگلی آیت میں آ جاتے ہیں جس میں بتا دیا جاتا ہے کہ آپ پر حکم یہ تھا اور اب صورتحال تبدیل ہو گئی ہے تو پھر اب حکم یہ ہے۔ قرآن مجید میں صرف 4 آیات ہی ہیں جو منسوخ ہو گئی ہیں اور اس کی وضاحت اسی آیت کے ساتھ ہی آگے موجود ہیں۔ اتنی زیادہ آیات منسوخ نہیں ہیں بلکہ صرف چار آیات ہی ہیں۔ 

سوال:  اگر قرآن کی دو آیات میں بظاہر تعارض ہو تو کیا ہر تعارض کو نسخ پر محمول کیا جا سکتا ہے؟

جواب:  پلیز زبان کو ماڈرن کر کے ارشاد فرمائیں۔ یہ الفاظ محمول، تعارض پرانے ہو چکے ہیں اور متروک ہو چکے ہیں۔ اس کی کوئی مثالیں بھی دیجیے جس میں کانفلکٹ آپ کو نظر آ رہا ہو تو اس پر عرض کروں گا۔ 

سوال: قرآن میں احکام کی وجہ یا علت بیان کرنے کے کیا اصول ہیں؟

قرآنی مثالیں

إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ۔ نماز آپ کو فحاشی اور انکار کو روکتی ہے۔ (سورۃ العنکبوت)

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ... لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔ روزہ آپ پر فرض ہے تاکہ آپ متقی بن سکیں۔ (سورۃ البقرۃ)

 جواب: اس میں تو وجہ موجود ہے کہ نماز فحش اور انکار کا روکتی ہے۔ نماز اس لیے ہے کہ اللہ تعالی سے ہمارا رابطہ ہو اور انسان رابطہ روزانہ پانچ بار رکھے تو پھر اسے وارننگ مل جاتی ہے کہ فحاشی اور انکار یعنی کفر سے بچنا ہے۔ اسی طرح روزہ کی وجہ اسی آیت میں ہے کہ آپ تقوی اختیار کریں۔  تقوی کا معنی ہے کہ آپ گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں اور اسی میں ہم متقی بن سکتے ہیں۔ نماز اور روزہ ہماری تربیت ہوتی ہے کہ ہم نے گناہوں سے بچنے کی پوری کوشش کرنی ہے۔

 سوال: اگر قرآن کی دو آیات کا مطلب بظاہر ایک دوسرے سے مختلف لگے تو کیا ہر ایسی صورت کو منسوخ (نسخ) سمجھا جا سکتا ہے؟

قرآنی مثالیں

 لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ۔ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ (سورۃ البقرۃ)

قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ۔ آپ جہاد کیوں نہیں کرتے ہیں کہ آپ کیا اللہ تعالی پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ (سورۃ التوبہ)

جواب: یہ بالکل منسوخ آیات نہیں ہے بلکہ یہ ہر انسان کے لیے اصول بیان ہوا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ آپ چاہیں تو ایمان لائیں اور عمل کریں یا نہ کریں۔ اس کا رزلٹ بتا دیا ہے کہ جنت یا جہنم میں سے جس کا چاہیں آپ اختیار کر سکتے ہیں۔ 

قتال یعنی جہاد کے لیے آیت بھی منسوخ نہیں ہے۔ اس آیت کا پورا جملہ دیکھیں تو اس میں وجہ سامنے آ جاتی ہے تاکہ مذہبی جبر اور ظلم کو ختم کرنے کے لیے جہاد کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جہاد کی حکومت مسلم حکومت کو دی ہے۔ اوپر آپ پڑھ ہی چکے ہیں کہ اس حکومت کو جہاد کی ذمہ داری ہے جس میں کم از کم اتنی طاقت ہو جو مجرم کی نسبت 50% ہو۔

سوال:  قرآن میں نسخِ تلاوت کے نظریے کی اصولی حیثیت کیا ہے؟

جواب:  اصولی حیثیت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جو تبدیلی کی اور پہلے حکم کو منسوخ کر دیا ۔ اب اس کی تلاوت کا فائدہ یہ ہے کہ کس صورتحال میں کونسا حکم ویلڈ ہو گا۔ اس کی مثال آپ سورۃ البقرۃ کی آیات کو دیکھیے کہ اللہ تعالی نے رمضان کے روزہ کی نسبت معاشی پینلٹی کی اجازت دے دی۔ پھر اگلی آیت میں بتا دیا کہ اللہ تعالی کو یہی پسند ہے کہ آپ کو بیماری یا سفر کی وجہ ختم ہو جائے تو پھر روزہ  ہی ادا کریں۔ 

أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ ۚ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ۚ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ. (184)

(رمضان کا روزہ تو) یہ گنتی کے چند دن ہی تو ہیں ۔ اس موقع پر بھی اگر آپ  میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ کسی دوسرے دنوں میں بھی یہ ٹائم پورا کر سکتے ہیں۔ جو اتنی طاقت رکھتے ہوں کہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں تو ان پر ہر روزے کا بدلہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔  پھر جو شوق سے کوئی مزید نیکی کرے تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہے۔  آپ روزہ ہی رکھ لیجیے  تو یہ آپ  کے  لیے زیادہ اچھا ہے ،  اگر آپ لوگ سمجھ رکھتے ہیں۔

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ. (185)

رمضان  کا مہینا ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا تھا تاکہ  لوگوں کے لیے سراسر ہدایت پہنچ جائے۔ نہایت واضح دلائل کے ساتھ یہ رہنمائی بھی ہیں اور حق و باطل کا فیصلہ بھی  قرآن مجید میں ہے۔ چنانچہ آپ میں سے جو شخص اس مہینے میں زندہ ہو تو اسے چاہیے کہ اسی ماہ میں روزے رکھے۔ 

ہاں جو لوگ بیمار ہو یا سفر میں ہو  تو وہ دوسرے پیریڈ میں اتنی تعداد میں روزےادا کر لے۔ اللہ تعالی آپ  کے لیے آسانی چاہتا ہے اور  سختی نہیں چاہتا ہے۔ اس لیے آپ روزوں کی تعداد پوری کیا کریں۔ اللہ تعالی نے جو ہدایت آپ  کو عنایت دی ہے تو آپ کو چاہیے کہ اللہ  تعالی کی تکبیر کرتے رہیں تاکہ آپ اس رب کےشکرگزار بن  کر رہیں۔ (سورۃ البقرۃ) 

اب آپ دیکھیے کہ ماڈرن زمانے میں ڈایابیٹک بیماری زیادہ لوگوں میں آ گئی ہے۔ جو لوگ میڈیسن کے ذریعے ڈایابیٹک ہوتے ہیں تو وہ روزہ ادا کر سکتے ہیں لیکن جسے انسولین لگی ہو تو وہ روزہ مکمل نہیں کر سکتا ہے۔ ابھی تک ٹیکنالوجی میں اس کا علاج ایجاد نہیں ہو اہے۔ اس لیے انسولین والے مریض کو اجازت ہے کہ اللہ تعالی کے پہلے حکم کہ معاشی پینلٹی ادا کر  سکتے ہیں۔ انشاء اللہ جب ہی ڈایابیکٹ بیماری کا مکمل علاج انسانوں نے ایجاد کر لیا تو پھر روزہ کا فدیہ ادا کرنے کی بجائے روزہ ہی ادا کرنا ہو گا کہ اللہ تعالی کو یہی پسند ہے۔

اس مثال سے آپ دیکھیے کہ منسوخ آیت کا مطالعہ کرنے کا فائدہ کیا ہے۔ ہر انسان کی صورتحال بدلتی رہتی ہے، اس لیے احکامات ویلڈ رہتے ہیں۔ 

اس کی مزید مثال دیکھیے کہ طوائف کو روکنے کے لیے سزا سورۃ النساء میں دی کہ انہیں گھروں میں بند کر دیجیے جب تک اللہ تعالی کا فائنل حکم نہ آ جائے۔  اس کی وجہ یہی تھی کہ ابھی حکومت مضبوط نہیں ہوئی تھی۔ پھر چھ سال بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت مضبوط ہو گئی تو پھر سورۃ النور میں 100 کوڑے کی سزا کا حکم آ گیا۔ 

اب آپ دیکھیے اگر کوئی مسلم حکومت مضبوط نہیں ہوئی ہو تو اس وقت تک وہ سورۃ النساء کے حکم پر عمل کریں اور طوائف کو اپنے گھروں میں بند کر لیں۔ اس کے بعد جب حکومت مضبوط ہو جائے تو پھر سورۃ النور کے حکم پر عمل کریں کہ وہ سو کوڑے کی سزا دیں۔ یہی فائدہ ہے کہ اللہ تعالی نے صورتحال کے ساتھ دونوں احکامات فرما دیے ہیں۔ 

سوال: ’’ما ننسخ من آیةٍ أو ننسها“کی آیت سے نسخ یعنی کینسل کا دائرہ کس حد تک متعین ہوتا ہے؟

جواب: اس آیت سورۃ البقرۃ میں ہے اور اسے دیکھیے کہ یہاں سوال کا جواب مل رہا ہے۔ اس کا تعلق قرآن مجید میں منسوخ کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ یہودیوں کا اعتراض تھا کہ تورات میں اللہ تعالی کا جو حکم تھا تو پھر اسے قرآن میں کیوں تبدیلی آئی ہے؟ اس کا جواب اللہ تعالی نے دیا ہے۔

مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. (106)

(انہیں اعتراض ہے کہ تورات کی شریعت میں ہم کوئی تبدیلی کیوں کر رہے ہیں؟  آپ انہیں سمجھا دیجیے کہ) ہم جو آیت بھی منسوخ کرتے ہیں یا اُسے بھلا دیتے ہیں، (قرآن میں)اُس کی جگہ اُس سے بہتر یا اس جیسی کوئی دوسرا حکم دے دیتے ہیں۔ کیا آپ  نہیں جانتے، کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟ (سورۃ البقرۃ) 

اسی آیت سے پہلے اور بعد کی آیات کو دیکھیے کہ یہاں بنی اسرائیل سے ہی گفتگو ہو رہی ہے۔ انہی کے اعتراض  یا سوال کا جواب مل رہا ہے۔ ہر آیت کو صرف ایک جملے تک نہیں بلکہ آگے پیچھے کی آیات کو پڑھ کر ہی سمجھنا چاہیے۔ 

اس نسخ کا دائرہ یہ ہے کہ صورتحال جب تبدیل ہو تو پھر یہ حکم ہے۔ اس کی مثال آپ نے وہی بدکاری کی سزا کو دیکھ لیا ہے۔ اب آپ تورات کے حکم پر تبدیلی کو دیکھیے کہ تورات میں سبت کا حکم ہے کہ پورے دن تک عبادت کریں۔ اس کے بعد قرآن و سنت میں اس حکم کو صرف جمعہ کی نماز تک لمٹ کر دی جو صرف آدھا گھنٹے تک ہی ہوتا ہے۔ 

اسے ہم ٹائم لائن سے دیکھ سکتے ہیں کہ کس ٹائم میں حکم آیا تھا اور اس کی وجہ کیا تھی؟ پھر کس ٹائم میں منسوخ ہوا تو اس وقت صورتحال میں کیا تبدیلی تھی؟  اس کے لیے تاریخی طور پر جو تبدیلیاں آئی ہیں، انہیں خود مفسرین نے بیان کیا ہے اور وہاں سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کس صورتحال میں کس تبدیلی آئی تھی۔ ظاہر ہے کہ بائبل کی تاریخ میں معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی کیا عادتیں تھیں، جس کی وجہ سے ایک دن کی عبادت کا حکم آیا۔ پھر جب عادتیں صحیح ہو گئیں تو وہاں صرف آدھے گھنٹے تک کا حکم رہ  گیا ہے۔ 

سوال:  قرآنِ مجید میں قیاس یا علت کی تلاش کی کوئی واضح بنیاد ملتی ہے؟

جواب:  جی ہاں۔ علم الفقہ میں قیاس کا معنی ہے کہ ملتے جلتے معاملے میں حکم اور علت کا مطلب ہے وجہ۔ اس سے اگلی آیت میں واضح بنیاد بھی مل جاتی ہے۔ اسی کی مزید وضاحت مفسرین کر لیتے ہیں۔ بس ہمیں اتنا ہی کرنا ہے کہ اس مفسر کو نہ پڑھیں جو کسی فرقہ کا تعصب رکھتا ہے بلکہ صرف اس مفسر کو پڑھیں جو لاجیکل طریقے سے ریسرچر ہو اور تعصب کے بغیر وضاحت کر رہا ہو۔  اگر آپ کو کسی آیت کی وجہ نظر نہیں آ رہی ہے تو پلیز وہ آپ بتا دیجیے تو میں عرض کر دوں گا کہ کس لفظ میں یہ وجہ موجود ہے۔ 

سوال:  کیا قرآن نے عقل کو ماخذِ استنباط کے طور پر تسلیم کیا ہے یا محض معاون ذریعہ؟

جواب: پھر پرانا لفظ ماخذ استنباط؟ اس کی بجائے یہ کہیے کہ قرآن مجید میں عقل کو بہت اہمیت دی ہے اور اس کی تعریف فرمائی ہے۔ عقل کے بغیر کوئی راستہ نہیں ہے کہ انسان اسے سمجھ سکے۔ اس میں غلطی ضرور آ جاتی ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح کر دیا کہ اگر غلط فہمی سے اجتہاد غلط ہو گیا، تب بھی اسے اجر ملے گا۔ 

ہاں عقل کا اصول یہ ہے کہ اس میں تعصب اور جذبات بالکل  نہ ہوں۔ جو لوگ تعصب اور جذباتی ہو کر تقریر کرتے ہیں تو پھر وہ عقل کی بات نہیں کر رہے ہوتے ہیں بلکہ وہ اپنے تعصب کی تقریر کر رہےہوتے ہیں۔ کوئی بھی جوان لڑکا لڑکی اسے سنے تو وہ فوراً جان لیتے ہیں کہ یہ تعصب  و جذبات کی بات ہے۔ ہماری تربیت میں اگر تعصب و جذبات موجود ہوں تو پھر ہم اپنے بچوں سے پوچھ کر اس تعصب اور جذبات سے بچ سکتے ہیں۔ 

سوال: قرآن میں احکام کی علتوں کا بیان کن اصولوں پر مبنی ہے؟

جواب: علت کیا چیز ہے؟  اگر آپ علت سے مراد ’’وجہ‘‘ ہے تو پھر دیکھیے کہ اس حکم کی وجہ اسی آیت میں مل جاتی ہے یا پھر اگلی آیت میں وجہ آ جاتی ہے۔ اسی وجہ کی وضاحت تفاسیر میں بھی آتی ہیں اور احادیث میں بھی مل جاتی ہیں۔ 

اس کی مثال وہی آپ سورۃ النساء میں طوائف کو گھر میں بند کرنے کی سزا کا حکم ہے تو اس کی وجہ دیکھ لیجیے اور اس کے ٹائم لائن کی لمٹ بھی بتا دی ہے۔ لمٹ کو دیکھیے کہ ’’کوئی راستہ نکال دے‘‘۔ 

وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا. (15)

وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا ۖ فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ تَوَّابًا رَحِيمًا. (16)

آپ  کے  پاس جن عورتوں میں سے جو (طوائف کے طور پر) بدکاری کرتی ہیں، ان پر اپنے اندر سے 4 گواہ طلب کریں۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو (حکومت کی پولیس) انہیں گھروں میں بند کر  دیں، یہاں تک کہ ان کی موت آجائے یا اللہ تعالی  اُن کے لیے کوئی (مزید سورۃ النور کی شریعت کا) راستہ نکال دے۔  جو مرد و عورت آپ  کے  لوگوں میں سے اس جرم کا ارتکاب کریں، (تو حکومتی عدالت) انہیں اذیت دیں۔ پھر اگر وہ توبہ کریں اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگذر کر  دیجیے۔ بے شک، اللہ تعالی بہت توبہ قبول کرنے والا ہے کیونکہ اس کی شفقت ہمیشہ کے لیے ہے۔ (سورۃ النساء) 

شروع سے ہی سورۃ النساء میں اس زمانے کے احکامات ہیں جو  جنگ احد میں بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شہید ہونے پر نازل ہوئے ہیں اور ابھی حکومت مضبوط نہیں ہوئی ہے اور یہی تاریخ میں موجود ہے۔ اب اس آیت سے واضح ہو گیا کہ یہ حکم ایک خاص ٹائم لائن کے اندر ہے۔ اس کے بعد جب سورۃ النور نازل ہوئی تو اس وقت حکومت مضبوط ہو چکی تھی۔ 

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ. (2)

الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ. (3)

بدکار عورت ہو یا بدکار مرد، سو(اِن کا جرم عدالت میں ثابت ہو جائے تو  حکومتی  جلاد) دونوں میں سے ہر ایک کوسو کوڑے ماریں اور اللہ تعالی  کے اِس قانون (کو نافذ کرنے) میں اُن کے ساتھ کسی نرمی کا جذبہ آپ کے  ذہن  میں  نہ  آئے، اگر آپ اللہ تعالی  پر اور آخرت کے دن پر فی الواقع ایمان رکھتے ہیں۔ اور اُن کو سزا دیتے وقت مسلمانوں کا ایک گروہ بھی وہاں موجود ہونا چاہیے۔ (اِس سزا کے بعد) یہ بدکار مرد کسی بدکار عورت یا کسی  مشرکہ ہی سے نکاح کرسکے گااور اِس  بدکار عورت کو بھی کوئی بدکار مرد  یا کوئی  مشرک ہی اپنے نکاح میں لاسکے گا۔   اہل  ایمان پر اِسے حرام کر دیا گیا ہے۔ (سورۃ النور)

اب موجودہ زمانے میں حکمران سمجھ سکتے ہیں کہ ان کی حکومت مضبوط ہے یا نہیں۔ اگر مضبوط ہے تو پھر وہ فائنل حکم سورۃ النور کے مطابق سزا دیں اور اگر حکومت ابھی مضبوط نہیں ہوئی ہے تو پھر سورۃ النور کے حکم کے مطابق طوائف کو گھروں میں بند کر دیں۔

سوال: قرآن میں الفاظِ مشترکہ کی تعیین کے لیے کون سا اصول سب سے معتبر ہے — سیاق، عرف، یا لغت؟

جواب: سب سے اہم ترین فیکٹر سیاق و سباق کا ہے۔ اس کے بعد لغت یعنی لینگوئج اور عرف یعنی پریکٹیکل عمل۔ اس سے آپ قرآن مجید کے الفاظ کی ڈکشنری سمجھ سکتے ہیں۔ یعنی ہر لفظ کا عمومی معنی اور پھر اس کی وضاحت کے ساتھ مجازی معنی کیا ہے۔ اچھی ڈکشنری میں وضاحت کے ساتھ ایسے واقعے بھی مل جاتے ہیں کہ کس طرح یہ مجازی معنی استعمال ہوتا ہے اور کس طرح لفظی معنی ہے۔ قرآن مجید میں احکامات سے متعلق کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جس کے معنی میں کوئی اختلاف ہو۔ آپ کسی بھی فرقہ کے اسکالر کا ترجمہ پڑھ لیجیے تو اس میں کوئی فرق نہیں ملے گا۔ اختلاف اجتہادی معاملات میں ہوتا ہے لیکن قرآن مجید کے احکامات تمام فرقہ والے مسلمان ایک ہی سمجھتے ہیں۔

سوال: اگر قرآن کی ایک آیت کی متعدد تفسیری جہتیں ممکن ہوں تو فقہی حکم کے تعین میں کون سا اصول فیصلہ کن ہوگا؟

جواب: تفاسیر میں شریعت سے متعلق آیات میں کوئی بڑا اختلاف نظر نہیں آتا ہے۔ فقہاء میں جو اختلافات پیدا ہوتے ہیں، اس کا تعلق آیت کو سمجھنے متعلق نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ احادیث یا تقلید کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ابھی آپ شریعت سے متعلق احکامات والی آیات کو آپ بغیر تعصب والی تفاسیر جیسے مودودی، کرم شاہ، شفعی عثمانی، اصلاحی، کیلانی، جاوید غامدی اور شیرازی صاحب حضرات کی تفاسیر کو دیکھیے تو کہیں کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔

شرعی آیات میں اختلاف آپ کو نظر نہیں آتا ہے کہ یہ سب  تعصب نہیں رکھتے تھے۔ اس کے بعد آپ بیشک پرانی صدیوں کی تفاسیر میں پڑھ لیجیے تو وہاں بھی فرق نہیں آئے گا۔  ہاں فقہاء میں فرق ان آیات کو اپلائے کرنے میں پیدا ہوتا رہا ہے اور وہ ہوگا کہ انسان کی علمی صلاحیتوں میں فرق ہو سکتا ہے اور اس لیے اجتہاد کی غلطی معاف ہے۔ 

اجتہاد کی غلطی کی مثال آپ اسی بدکاری کی سزا جو سورۃ النور میں ہے تو اسے دیکھ لیجیے۔ موجودہ زمانے کے جو فقیہ مسلم ممالک کو طاقتور سمجھتا ہے تو پھر وہ مسلم ممالک کی حکومتوں پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ پینل لاء  کا قانون غلط ہے یا قانون پر عمل نہیں ہو رہا ہے اور وہ حضرات احتجاج کرتے ہیں۔  دوسرا فقیہ یہ سمجھتا ہے کہ مسلم ممالک کی حکومتیں امریکہ کے غلام ہیں اس لیے وہ بیچارے مجبور ہیں۔ اس لیے وہ لمبا احتجاج نہیں کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ بھائی، آپ کوشش تو کریں کہ جس حد تک طاقت ہے تو ان احکامات پر عمل تو کرنے کی کوشش کریں۔ 

اب آپ دیکھیے کہ اپلائے کرنے میں فقہاء میں اختلاف آ سکتا ہے کیونکہ ہر فقیہ کا نقطہ نظر ، ان کے ماحول اور ان کے تجربے کے لحاظ سے اپلائے کرنے کا فرق آتا ہے۔ اس میں اجتہاد جب ہوتا ہے تو اس میں غلطی ہو سکتی ہے کہ انسان ہے۔ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس اجتہادی غلطی کا ارشاد پڑھ لیجیے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ، ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ، ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ"، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

ہم سے عبداللہ بن یزید مقری مکی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، انہوں نے مجھ سے یزید بن عبداللہ بن الہاد نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم بن الحارث نے، ان سے بسر بن سعید نے، ان سے عمرو بن العاص کے مولیٰ ابو قیس نے، ان سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

جب حکمران کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے ڈبل ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے ایک مرتبہ ثواب ملتا ہے۔ یہی حدیث ابوہریرہ اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة/حدیث: 7352]

سوال: قرآن کی روشنی میں مقاصدِ شریعت (مثلاً عدل، رحمت، مصلحت) کو اصولِ فقہ کی بنیاد بنانا کہاں تک درست ہے؟

جواب:  بالکل یہی فقہ کی بنیاد ہے۔ ان مثالوں سے مزید اضافہ کر لیجیے جو آپ سورۃ البقرۃ کی آیت 177 میں پڑھ سکتے ہیں۔ 

لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا ۖ وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ. (177)

(یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی سے وفاداری کا حق محض چند رسمیں پوری کر دینے سے ادا ہو جاتی ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ تعالی کے ساتھ وفا داری صرف یہ نہیں کہ آپ اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف کر لیا ، بلکہ وفاداری تو صرف انہی لوگوں کی وفاداری ہے جو:

۔۔۔۔۔ پورے دل سے اللہ تعالی پر ایمان لائیں۔

۔۔۔۔۔ قیامت کے دن پر یقین کر لیں۔

۔۔۔۔۔ اللہ تعالی کے فرشتوں، اس رب کی کتابوں اور اس کے انبیاء کرام پر یقینی طور پر ایمان لائیں۔

۔۔۔۔۔ مال کی محبت کے باوجود اپنے رشتے دار،  یتیم،   مسکین، مسافر، مشکلات میں مبتلا لوگ، اور غلاموں کی آزادی میں خرچ کریں۔

۔۔۔۔۔ نماز کا اہتمام کریں۔

۔۔۔۔۔ زکوٰۃ ادا  کرتے رہیں۔

۔۔۔۔۔ اور وفاداری تو صرف انہی لوگوں کی ہے کہ جب معاہدہ کر لیں تو اپنے اس عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔ اور خاص کر ان کی جو تنگی، بیماری اور جہاد کے موقع پر  ثابت قدم رہنے والے ہوں۔

یہی وہ لوگ ہیں جو سچے اور متقی ہیں۔ (سورۃ البقرۃ) 

سوال: کیا قرآن کی اخلاقی تعلیمات (مثلاً عدل و احسان) کو فقہی اصولوں پر فوقیت دی جا سکتی ہے؟

جواب: فقہی اصولوں اور اخلاقی تعلیمات میں کوئی فرق ہی نہیں ہے۔ ہاں فقہاء کے اجتہاد میں ان کی غلطیوں میں اخلاقی تعلیمات سے مختلف نظر آتا ہے۔ اب کسی بھی فقیہ کے اجتہاد میں کوئی کنفیوژن نظر آئے تو اس فقیہ کی وجوہات اور سیاق و سباق کو پڑھ لیجیے تو پھر واضح آ جاتا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے یا پھر واضح آ جاتا ہے کہ یہ سیاق و سباق کا معاملہ ہے یا پھر فقیہ سے غلطی ہوئی ہے۔ آپ کوئی بھی مثال بتا دیجیے تو میں اس سکالر کی غلطی بتا دوں گا کہ یہاں پر اجتہادی غلطی ہے اور بس۔

سوال:  قرآن میں حدود و تعزیرات یعنی پینل لاء کے احکام کو اصولِ مقاصد کے تحت تغیرپذیر قرار دینا کہاں تک جائز ہے؟

جواب:  اس پر تو ہماری ڈسکشن ہو چکی ہے۔ اللہ تعالی نے جن مجرموں پر سزا کا حکم دیا ہے تو اس کی تبدیلی بھی بتا دی ہے اور بس اتنی ہی لمٹ ہے۔ اس سے زیادہ کوئی تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ صرف چار جرم ہی ہیں جو قرآن مجید میں ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر قسم کے باقی جرم جو کچھ بھی ہیں، اس میں تبدیلی آ جاتی ہے کہ یہ محض انسانی کام ہے جو ٹائم کے لحاظ سے تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ 

 سوال: قرآن میں بیان کردہ اجتماعی مصالح (مثلاً نظمِ اجتماعی، عدل اجتماعی) کی بنیاد پر فقہی اصولوں میں تبدیلی ممکن ہے؟

جواب: پھر پرانا لفظ مصالح سے کیا مراد ہے؟ اگر آپ کی مراد اجتماعی مصلحت ہے تو دیکھیے کہ وہ ٹائم کے ساتھ تبدیل ہو سکتی ہے۔ اس میں اصول تبدیل نہیں ہوتے ہیں بلکہ پریکٹیکل عمل میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ 

اس کی مثال آپ دیکھیے کہ اللہ تعالی نے اصول بتا دیا ہے کہ اپنی آمدنی اور اپنے ایسٹس میں سے زکوۃ ادا کرنی ہے۔ اس اصول کو اپلائے کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایگریکلچر ایج کے زمانے میں آمدنی پر زکوۃ کا فارمولا اپلائے کیا ہے۔ اب یہی حکم انڈسٹریل ایج اور انفارمیشن ایج میں اپلائے ہو گا اور اس پر عمل ہو گا۔ اب مصلحت یہی آئی ہے کہ موجودہ زمانے میں ایگریکلچر  آمدنی زیادہ بڑی نہیں ہے جبکہ انڈسٹری اور انفارمیشن سے زیادہ بڑی آمدنی آ رہی ہے تو اس پر زکوۃ ہو گی۔ 

اب فقہاء نے انگریزوں کے زمانے میں انڈسٹری دیکھی تو انہوں نے اجتہاد کیا کہ انڈسٹری تو تجارت جیسے چیز ہے۔ اس لیے انہوں نے ہر سال میں یکم رمضان کو جتنا سامان ہو تو اس کا 2.5% حصہ زکوۃ دیں۔

ہم ماڈرن فقہاء نے اختلاف کیا کہ انڈسٹری اور تجارت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔   یہ محض تجارت نہیں ہے بلکہ یہ پیداوار ہے جیسے کھیتوں میں ہوتی تھی۔ جیسے کھیتوں کے پیداوار پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 5% زکوۃ اپلائی کی تھی اور اگر اخراجات نہ ہوں تو 10% زکوۃ وصول فرمائی۔ بالکل اسی طرح انڈسٹری کی آمدنی یعنی پرافٹ کا وہی 5% زکوۃ ادا کرنی ہو گی۔ اب آپ اختلاف کر سکتے ہیں کہ ٹرن اوور، گراس پرافٹ یا نیٹ پرافٹ کس پر زکوۃ ہو گی؟ اب آپ ایک فائنانشل اسٹیٹ منٹس کو مثال میں کیلکولیشن کر کے بتائیے کہ کتنی زکوۃ اس کمپنی کو ادا کرنی ہے؟ 

اب ایسٹس پر بھی زکوۃ کا حکم ہے تو اس مثال میں آپ کیلکولیٹ کر کے بتائیے کہ اس کمپنی کو کس ایسٹ پر زکوۃ ادا کرنی ہو گی۔ 

اب آپ بتائیے کہ کس ایسٹ پر زکوۃ ہو گی اور کس پر نہیں ہو گی۔ پھر لایابلٹی کو مائنس کریں گے یا نہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر کھیت کی آمدنی پر زکوۃ قائم فرمائی ہے۔ جس میں اخراجات نہ ہوں تو پھر 10% زکوۃ ہے اور اخراجات سے پیداوار ہوئی تو پھر 5% زکوۃ ہے۔ اب آپ آمدنی میں کس طرح زکوۃ کیلکولیٹ کریں گے۔

کوئی بھی بھائی بہن اس مثال سے فائنانشل اسٹیٹمنٹ میں زکوۃ کیلکولیٹ کر کے ای میل میں دکھائیے تو میں آپ کو واضح کر دوں گا کہ آپ نے صحیح کیلکولیشن کی ہے یا نہیں۔

والسلام

محمد مبشر نذیر

 اسلامی کتب کے مطالعے اور دینی کورسز کے لئے وزٹ کیجئے اور جو سوالات ہوں تو بلاتکلف ای میل کر دیجیے گا۔

www.mubashirnazir.org and mubashirnazir100@gmail.com

تعلیمی و تربیتی کورسز کے ویب لنکس

 اسلامک اسٹڈیز کی کتابیں اور لیکچرز

Islamic Studies – English

Quranic Studies – English Books

علوم القرآن ۔ کتابیں

علوم القرآن اردو لیکچرز

Quranic Studies – English Lectures

Quranic Arabic Language 

Quranic Arabic Language Lectures

Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice English

Methodology of Hadith Research English

علوم الحدیث سے متعلق کتابیں

قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات

علوم الحدیث اردو لیکچرز

علوم الفقہ پروگرام

Islamic Jurisprudence علم الفقہ

مسلم تاریخ ۔ سیاسی، تہذیبی، علمی، فکری اور دعوتی تاریخ

امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ لیکچرز

اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ

عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات

تعمیر شخصیت کتابیں، آرٹیکلز اور لیکچرز

تعمیر شخصیت کا طریقہ کار

Personality Development

Books https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1ntT5apJmrVq89xvZa7Euy0P8H7yGUHKN

علوم الحدیث: ایک تعارف

مذاہب عالم  پروگرام

Impartial Research امت مسلمہ کے گروہوں کے نقطہ ہائے نظر کا غیر جانب درانہ تقابلی مطالعہ

تقابلی مطالعہ پروگرام کی تفصیلی مضامین کی فہرست

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

Quranic Studies – English Lectures

Islamic Studies – Al-Fatihah 1st Verse & Al-Baqarah 2nd Verse
Islamic Studies – Al-Imran – 3rd Verse
Islamic Studies – Al-Nisaa – 4rd Verse
Islamic Studies – Al-Maidah – 5th Verse Quran – Covenant – Agreement between Allah & Us
Islamic Studies – The Solution of Crisis in Madinah during Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – Quran Verses 24 & 33
Islamic Studies – The Forecast of Victory of Prophet Muhammad – Quran 47-114
Islamic Studies – Al-Anfaal – 8 Quranic Verse – Policies of War
Islamic Studies – Al-Taubah – 9 Quran Verse – The Result of Victory
Quranic Studies
Comments on “Quranic Studies Program”
Quranic Arabic Program – Lectures

علوم القرآن اردو لیکچرز

علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرۃ 1-2
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ آل عمران ۔۔۔ قدیم امت مسلمہ اہل کتاب عیسائی امت  کی اصلاح اور نئی امت مسلمہ کا تزکیہ نفس 3
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ النساء ۔۔۔تعمیر شخصیت کے لیے شریعت سے متعلق احکامات اور سوالات کا جواب 4 
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ المائدہ ۔۔۔ امت مسلمہ کا اللہ تعالی سے  آخری معاہدہ  5
علوم القرآن کا مطالعہ ۔   مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور عہد رسالت میں جزا و سزا کا پریکٹیکل تجربہ   6-9
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب   10-24
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 25-33
علوم القرآن کا مطالعہ ۔  مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی پیش گوئی   34-49
علوم القرآن کا مطالعہ ۔   مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت  اور  تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین   کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب 50-66
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت  اور  تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین   کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب  + رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی بشارت 67-114

Hadith Research English Lectures

Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice
Methodology of Hadith Research

علوم الحدیث اردو لیکچرز

قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
اصول الحدیث لیکچرز
علوم الحدیث: ایک تعارف

Personality Development

تعمیر شخصیت لیکچرز

تعمیر  شخصیت  کا  طریقہ  کار  ۔۔۔  مثبت  شخصیت  کی  وابستگی
تعمیر  شخصیت  کا  طریقہ  کار  ۔۔۔  منفی  شخصیت  سے  نجات
اللہ  تعالی  اور  اس  کے  رسول  کے  ساتھ  تعلق اور انسانوں  کے  ساتھ  رویہ
Leadership, Decision Making & Management Skills لیڈرشپ، فیصلے کرنا اور مینجمنٹ کی صلاحیتیں
اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟
قرآن اور بائبل کے دیس میں
 ۔۔۔۔۔۔ قرآن اور بائبل کے دیس میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخصوص علاقے سعودی عرب، اردن، فلسطین اور مصر
سفرنامہ ترکی
اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں
Strategic Planning in Religious Research حکمت عملی سے متعلق دینی احکامات
Social Sciences سماجی علوم
مذہبی برین واشنگ اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ

دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب لیکچرز

قرآن مجید اور سنت نبوی میں عبادت سے متعلق عملی احکامات
Economics & Finance دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ اکنامکس اور فائنانس
Finance & Social Sciences دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ معاشرت اور سوشل سائنسز 
 (Political Science) دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ سیاست 
(Schools of Thought) علم الفقہ کی تاریخ اور فقہی مکاتب فکر

امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ

BC 250,000 to 610CE نبوت محمدی سے پہلے کا دور ۔۔۔ حضرت آدم سے لے کر محمد رسول اللہ کی نبوت تک
571CE-632CE عہد رسالت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مذہبی، علمی، دعوتی، سیاسی  اور تہذیبی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
عہد صحابہ اور تابعین کی سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 632-750
 امت مسلمہ کی تہذیبی عروج کا دور : سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ750-1258
 تہذیبی جمود اور زوال کا دور اور پھر  ریکوری: سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1258-1924
 امت مسلمہ  کی  ریکوری  کا دور  ۔۔۔  سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1924سے آج تک
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
مسلم دنیا اور ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی
نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟

Comments on “The History of Abolition of Physical & Intellectual Slavery in Islam”

قرآن مجید میں جو احکامات ہیں تو اس میں شریعت پر ریسرچ کیسے کریں؟
Scroll to top