Interest Transactions & Indexation قرضوں پر انڈیک سنگ کا مسئلہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سر

آپ کی کتاب  ’’علوم الفقہ ماڈیول6: دور جدید میں معاشی فقہی مسائل‘‘ پڑھی ہے تو ان سوالات کا جواب دیجیے۔

خضرحمید ڈیرہ غازی خان

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ: آپ کے سوالات کا جواب حاضر خدمت ہے۔

سوال: فرض کیجئے مجھے اپنی بزنس میں ایک لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔  جس شخص سے میں قرضہ لے رہا ہوں اس کو اس شرط پر قرضہ لے رہا ہوں کہ دو ماہ کے بعد میں اپ کا قرضہ واپس کر دوں گا۔ اسے یہ بتاؤں کہ میں یہ آپ کے فنڈ کو اپنی پروڈکشن بڑھانے کے لیے لے رہا ہوں۔  آپ کے لاکھ کے پیچھے میں جو اپنے بزنس میں انویسٹ کر رہا ہوں تو پرافٹ جو ہوا ، تو میں اپ کو 10 پرسنٹ دوں گا۔  اگر نہ ہوا تو اپ کی اوریجنل ایک لاکھ روپے واپس کر دوں گا۔  اس طرح کی صورت حال پر کیا کریں؟

جواب:  یہ بہت عام ہو گیا ہے۔ اس میں بہت سے لو گ غلط طریقے سے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کی بجائے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ ایک لاکھ روپے لیں اور انہیں بتا دیجیے کہ جتنا بھی پرافٹ ہوا ، تو اس  ٹوٹل پرافٹ کا 10% حصہ آپ کو ملے گا اور اگر نقصان ہوا تو میں خود ہی برداشت کروں گا اور آپ کی اصل رقم ایک لاکھ ہی واپس کر دوں گا۔ 

اصل میں لوگ یہی غلطی کرتے ہیں کہ وہ انوسٹمنٹ سے % زیادہ لیتے ہیں جو سود ہی کی شکل ہے۔  اس میں پرافٹ پر % کا حصہ انہیں دینا چاہیے۔ اس کی مثال دیکھیے۔

Your Profit = Investment x 10% is error because it is Interest Income is not allowed in Shari’ah.

Your Profit = Total Profit x 10% is right because it is Halal in Shari’ah.

سوال: اسی طرح دوسرا سوال اسی سے متعلق ہے۔ ایک شخص کو میں کہوں مجھے اپنے بزنس میں شاپرز کی ضرورت ہے۔  شاپر بیگ کی موجود قیمت فرض کریں کہ دو لاکھ روپے ہے۔ میں اپ کو 15 ماہ کے بعد آپ کو دو لاکھ پچاس ہزار دوں گا تو کیا یہ بھی سود ہی کی شکل ہے؟ 

جواب: سود یہی ہوتا ہے کہ آپ نے قرض لیا اور زیادہ رقم دے رہے ہیں تو وہ سود ہے۔ لاجیکل آپ خود سوچ لیجیے کہ جو 15 ماہ بعد جو زیادہ دے رہے ہیں تو وہ سود ہی تو ہے۔ آپ جس چیز پر زیادہ رقم دے رہے ہیں تو وہ کاغذ ہیں اور کاغذ اصل میں استعمال کرنے والی اشیا ہیں،  جو استعمال ہونے کے بعد ختم ہو جاتی ہیں۔ اگر یہی معاملہ ختم نہ ہوتا بلکہ وہ اگر کوئی گھر یا گاڑی کا ہوتا تو پھر سود نہ بنتا بلکہ اس میں آپ کرایہ دے دیتے تو حلال تھا۔ سود کا اطلاق استعمال شدہ ہو کر ختم ہونے والی اشیاء پر ہوتا ہے اور اسے خواہ کرایہ ہی کہیں، تب بھی وہ سچ مچ سود ہی ہوتا ہے۔ 

سوال: قرضہ دینے والے نے اس لیے مجھے دو لاکھ کا قرضہ دیا کہ مجھے اپنی دو لاکھ سے کچھ فائدہ حاصل ہو۔  میں نے بھی اسی صورت میں لیا کہ چلو میرا کام بھی اگے بڑھ جائے ۔ اصل میں قرضہ دینے والے کی نیت یہ ہے اگر میں پیسے دے کر آپ سے پیسے لیتا ہوں  تو سود میں آ گیا جو حرام ہے۔ میں پیسے دے کر پرافٹ بھی لینا چاہتا ہوں مگر کیش دینے کی بجائے اسی کیش میں کوئی چیز اور آپ کو لے کر دیتا ہوں۔ آپ مجھے اس میں اتنا پرافٹ دیں،  چاہے آگے اپ کی وہ چیز سیل ہو یا نہ ہو ۔ اس میں میرا بیسک سوال یہ ہے اس تمہید پر روایتی علماء اس طرح کے حیلے کو کیوں جائز قرار دیتے ہیں کیونکہ دینے والے کی نیت میں ہی پہلے سے ہی فراڈ ہے ۔ کیونکہ وہ یہ نہیں دیکھ رہا کہ میں اسے قرضہ دے رہا ہوں اس کی انویسٹ میں فائدہ ہو یا نہ ہو مگر مجھے اس سے فائدہ ضرور ہو؟ کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب: حسن ظن ہی رکھنا چاہیے کہ روایتی علماء کی نیت درست ہو گی جبکہ انہیں غلط فہمی ہو گئی ہو گی۔ اگر نیت خراب ہو تو پھر وہ گناہ بنتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے جیسے میں نے کاغذ پر بتایا کہ یہ سود ہے۔ دوسرے آدمی نے غلط فہمی سے اسے درست سمجھ لیا تو یہ محض غلط فہمی ہی ہوئی ہے۔ لیکن جس شخص نے حیلہ پیدا کر کے سود ہی کمانا چاہتا ہے ، لیکن وہ  لفظ سود نہیں کہنا چاہتا تو پھر وہ فراڈ ہی کر کے گناہ کر رہا ہے۔  

سوال: فرض کیجئے میں نے کسی سے قرضہ لیا ہے ڈالر کی شکل میں؟  وہ قرض میں نے اسی ڈالر میں ہی واپس دے دیا  ہے۔ جتنی مدت کے لیے لیا ہے کیونکہ میں اس سے جو پیسے لیے ہیں،  اس سے فائدہ حاصل کیا ہے۔  اب میں چاہتا ہوں کہ اس فائدے میں سے قرض دینے والے کو بھی تھوڑا سا فائدہ دے دوں   تو یہ اخلاقی لحاظ سے بھی ٹھیک ہے  یا نہیں؟

جواب: آپ نے جتنا قرض لیا ہے تو اصل رقم ہی واپس دیں  خواہ یہ روپے ہو یا ڈالر۔ اس سے زیادہ کچھ دینا چاہتے ہیں تو بیشک دے دیں کہ اس میں سود نہیں ہے۔ اس میں آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ گناہ تو اس پر ہے کہ آدمی زیادہ سود لینا چاہتا ہو۔  اگر وہ قانونی طور پر مزید لینا نہیں چاہتا ہے لیکن آپ نے کسی کو زیادہ رقم دے دی ہے تو یہ آپ کا تحفہ ہی ہے۔

سوال: اگر کوئی  شخص قرض حسنہ میں یہ شرط لاگو کی جائے کہ مجھے اس سے ضرور کچھ نہ کچھ دیا جائے ، تو اس کنڈیشن میں کیا اسے قرض نہ بول سکتے ہیں ؟

جواب: قرض حسنہ تو یہ ہے کہ آدمی قرض دے اور اگر واپس مل جائے تو ٹھیک ہے لیکن اگر واپس نہیں ملا تو اسے کوئی دکھ نہیں آیا ہے کہ اپنے بھائی کی مدد کی ہے۔ اکثر لوگ قرض حسنہ کے طور پر مانگتے ہیں تو ان کی نیت یہی ہوتی ہے کہ وہ قرض واپس نہیں دینا چاہتے ہیں تو پھر انہوں نے گناہ کیا ہے کہ وہ قرض حسنہ کا لفظ کہہ کر اگلے کی رقم کو چھیننا چاہتے ہیں۔ نیت درست ہے کہ وہ واپس دینا ہی چاہتا ہے لیکن کسی مشکل کی وجہ سے نہیں دے سکا ہے تو پھر گناہ نہیں ہو گا لیکن اگر اس کی نیت ہی خراب ہے کہ وہ قرض حسنہ کہہ کر دبا کر رکھنا چاہتا ہے تو پھر اس نے گناہ کیا ہے۔

سوال: اگر بینک مجھے شراکت داری کے ساتھ اس منافع میں سے ایک شرط لگائے   کہ اس بزنس سے جو پرافٹ آئے گا وہ دونوں ہم ہاف ہاف کریں گے۔  بینک کہتے ہیں کہ آپ کے پرافٹ میں سے جو ہم نے انویسٹ کی ہے ، اس لیے اس انوسٹ منٹ کی وجہ سے کچھ پرسنٹ اپ ہمیں زیادہ دیں گے تو اس طرح کی صورت حال میں سود کا اطلاق پیدا ہوگا  یا نہیں؟

جواب: جو بھی پرافٹ  آپ کو ملا ہے تو آپ اس کا حصہ بینک کو دیں گے تو وہ جائز ہے کہ اس میں سود نہیں ہے۔ لیکن  اگر بینک نے انوسٹمنٹ کی کوئی % لگائی ہے کہ ہر مہینے اتنا زیادہ دیں گے خواہ پرافٹ ہوا یا نقصان تو پھر وہ سچ مچ سود ہے۔

یہ بالکل اسی طرح ہے کہ آپ نے بینک میں سیونگ اکاؤنٹ بنایا ہے اور اپنی رقم بینک میں رکھی ہے اور بینک کہتا ہے کہ ہم آپ کو سود نہیں دے رہے بلکہ پرافٹ دے رہے ہیں۔ بینک سے آپ ضرور پوچھ لیجیے کہ وہ انوسٹ کہاں پر کریں گے اور وہاں سے آمدنی کیسے پیدا ہو گی؟ اکثر بینک آپ سے رقم لے لیتے ہیں پھر اس سے سود ہی کماتے ہیں اور اس سودی آمدنی کا حصہ آپ کو دے دیتے ہیں جو بالکل حرام ہے۔ 

سوال:  ایک شخص میرے سے تیار شدہ سامان ایک لاکھ روپے کا خریدتا ہے اور کہتا ہے کہ چھ ماہ بعد رقم دوں گا۔ اس سامان کی موجودہ قیمت 90 ہزار روپے ہے۔  کیا یہ سود ہو گا یا نہیں؟

جواب:  کوئی شخص آپس میں طے کر سکتا ہے جو جتنی مرضی قیمت ہو۔ اگر کوئی 90 ہزار اشیاء کو کوئی دو لاکھ میں خریدنا چاہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اگر صرف ادھار کی ٹائم کے ساتھ قیمت کو بڑھانے کا آپ کہیں گے تو پھر یہ سود ہی شکل ہو جائے گی۔ جیسے آپ کیش میں 90 ہزار میں سامان دے رہے ہیں اور قرض کی شکل میں ایک لاکھ کی قیمت بتا رہے ہیں تو پھر یہ سود ہی کی شکل ہے۔

جو چیز بھی ٹائم کے ساتھ انڈیکس کر دیا ہو تو پھر وہ سود ہی ہوتا ہے۔ ویسے آپ کیش میں ایک لاکھ کا سامان آپ دو یا تین لاکھ میں خرید لیں  اور فوراً پیمنٹ کر دیں تو پھر وہ سود نہیں ہوتا ہے لیکن جب قرض کی شکل میں لیں اور بعد میں زیادہ رقم ادا کرنی ہے تو پھر وہ سود ہی ہوتا ہے۔ سود کا معاملہ کریڈٹ پر ہی ہوتا ہے کہ جتنا ٹائم زیادہ لگے تو اس میں قیمت کے نام پر جو بھی اضافہ ہوتا ہے تو وہ سود ہی ہوتا ہے اور ہمیں اس سے بچنا چاہیے کہ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ سود حرام ہے اور اللہ تعالی نے اسے اپنے ساتھ جنگ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشا دہے۔   

الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَنْ عَادَ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ. (275)

يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ. (276)

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ. (277)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ. (278)

فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ. (279)

اِس کے برخلاف جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ قیامت میں اٹھیں گے تو بالکل اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے اپنی چھوت سے پاگل بنا دیاہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ بزنس بھی تو آخر سود ہی کی طرح ہے حالانکہ تعجب ہے کہ اللہ تعالی نے بزنس کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے؟ (اِس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالی نے اُسے حرام ٹھیرایا ہے) لہٰذاجسے اُس کے رب کی وارننگ پہنچی اور وہ باز آ گیا تو جو کچھ وہ لے چکا، سو لے چکا ۔ (اُس کے خلاف اسی دنیا میں کوئی اقدام نہ ہو گا) اور اُس کا معاملہ اللہ تعالی کے حوالے ہے۔ جبکہ جو شخص (اِس وارننگ کے بعد بھی) اِس جرم کو دوبارہ کریں گے تو وہ جہنم کے لوگ ہیں چنانچہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

(آخرت میں) اللہ تعالی سود  (کی حیثیت) کو مٹا دے گا اور خیرات (کے اجر) کو بڑھائے گا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی ناشکرے اور کسی حق تلفی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ ہاں ، جو لوگ ایمان لائے ، نیک عمل کیے ، نماز کا اہتمام کیا اور زکوٰۃ ادا کی  تو ان اُن کے لیے اُن کا اجر ، اُن کے رب کے پاس ہے اور وہاں اُن کے لیے کوئی اندیشہ ہو گااور نہ ہی وہ کوئی غم کبھی آئے گے۔

اہل ایمان !اگر آپ سچے مومن ہیں تو اللہ تعالی سے وارننگ کو سمجھ لیجیے اور جتنا بھی سود باقی رہ گیا ہے ، اُسے چھوڑ دیجیے۔ لیکن اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو اللہ تعالی اوراُس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبردار ہو جائیں۔ اگر توبہ کر لیں تو آپ کو اصل رقم کا آپ میں حق ہے  چنانچہ  نہ آپ کسی پر ظلم کریں گے  اور نہ آپ پر ظلم کیا جائے گا۔ (سورۃ البقرۃ)

اس میں مزید سوالات تو ضرور ارشاد فرمائیے۔

محمد مبشر نذیر

 اسلامی کتب کے مطالعے اور دینی کورسز کے لئے وزٹ کیجئے اور جو سوالات ہوں تو بلاتکلف ای میل کر دیجیے گا۔

www.mubashirnazir.org and mubashirnazir100@gmail.com

تعلیمی و تربیتی کورسز کے ویب لنکس

 اسلامک اسٹڈیز کی کتابیں اور لیکچرز

Islamic Studies – English

Quranic Studies – English Books

علوم القرآن ۔ کتابیں

علوم القرآن اردو لیکچرز

Quranic Studies – English Lectures

Quranic Arabic Language 

Quranic Arabic Language Lectures

Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice English

Methodology of Hadith Research English

علوم الحدیث سے متعلق کتابیں

قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات

علوم الحدیث اردو لیکچرز

علوم الفقہ پروگرام

Islamic Jurisprudence علم الفقہ

مسلم تاریخ ۔ سیاسی، تہذیبی، علمی، فکری اور دعوتی تاریخ

امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ لیکچرز

اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ

عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات

تعمیر شخصیت کتابیں، آرٹیکلز اور لیکچرز

تعمیر شخصیت کا طریقہ کار

Personality Development

Books https://drive.google.com/drive/u/0/folders/1ntT5apJmrVq89xvZa7Euy0P8H7yGUHKN

علوم الحدیث: ایک تعارف

مذاہب عالم  پروگرام

Impartial Research امت مسلمہ کے گروہوں کے نقطہ ہائے نظر کا غیر جانب درانہ تقابلی مطالعہ

تقابلی مطالعہ پروگرام کی تفصیلی مضامین کی فہرست

کتاب الرسالہ از امام محمد بن ادریس شافعی

Quranic Studies – English Lectures

Islamic Studies – Al-Fatihah 1st Verse & Al-Baqarah 2nd Verse
Islamic Studies – Al-Imran – 3rd Verse
Islamic Studies – Al-Nisaa – 4rd Verse
Islamic Studies – Al-Maidah – 5th Verse Quran – Covenant – Agreement between Allah & Us
Islamic Studies – The Solution of Crisis in Madinah during Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم – Quran Verses 24 & 33
Islamic Studies – The Forecast of Victory of Prophet Muhammad – Quran 47-114
Islamic Studies – Al-Anfaal – 8 Quranic Verse – Policies of War
Islamic Studies – Al-Taubah – 9 Quran Verse – The Result of Victory
Quranic Studies
Comments on “Quranic Studies Program”
Quranic Arabic Program – Lectures

علوم القرآن اردو لیکچرز

علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرۃ 1-2
علوم اسلام کا مطالعہ ۔ سورۃ آل عمران ۔۔۔ قدیم امت مسلمہ اہل کتاب عیسائی امت  کی اصلاح اور نئی امت مسلمہ کا تزکیہ نفس 3
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ النساء ۔۔۔تعمیر شخصیت کے لیے شریعت سے متعلق احکامات اور سوالات کا جواب 4 
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ سورۃ المائدہ ۔۔۔ امت مسلمہ کا اللہ تعالی سے  آخری معاہدہ  5
علوم القرآن کا مطالعہ ۔   مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت اور عہد رسالت میں جزا و سزا کا پریکٹیکل تجربہ   6-9
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب   10-24
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت، تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین کی سازش، تشدد اور پراپیگنڈا کا جواب 25-33
علوم القرآن کا مطالعہ ۔  مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت ، تعمیر شخصیت  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی پیش گوئی   34-49
علوم القرآن کا مطالعہ ۔   مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت  اور  تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین   کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب 50-66
علوم القرآن کا مطالعہ ۔ مکی اور مدنی سورتوں میں توحید، آخرت  اور  تعمیر شخصیت جبکہ منکرین اور منافقین   کی سازش اور پراپیگنڈا کا جواب  + رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فتح کی بشارت 67-114

Hadith Research English Lectures

Hadith – Prophet’s Knowledge & Practice
Methodology of Hadith Research

علوم الحدیث اردو لیکچرز

قرآن مجید اور سنت نبوی سے متعلق عملی احکامات
اصول الحدیث لیکچرز
علوم الحدیث: ایک تعارف

Personality Development

تعمیر شخصیت لیکچرز

تعمیر  شخصیت  کا  طریقہ  کار  ۔۔۔  مثبت  شخصیت  کی  وابستگی
تعمیر  شخصیت  کا  طریقہ  کار  ۔۔۔  منفی  شخصیت  سے  نجات
اللہ  تعالی  اور  اس  کے  رسول  کے  ساتھ  تعلق اور انسانوں  کے  ساتھ  رویہ
Leadership, Decision Making & Management Skills لیڈرشپ، فیصلے کرنا اور مینجمنٹ کی صلاحیتیں
اپنی شخصیت اور کردار کی تعمیر کیسے کی جائے؟
قرآن اور بائبل کے دیس میں
 ۔۔۔۔۔۔ قرآن اور بائبل کے دیس میں انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی مخصوص علاقے سعودی عرب، اردن، فلسطین اور مصر
سفرنامہ ترکی
اسلام اور دور حاضر کی تبدیلیاں
Strategic Planning in Religious Research حکمت عملی سے متعلق دینی احکامات
Social Sciences سماجی علوم
مذہبی برین واشنگ اور ذہنی، فکری اور نفسیاتی غلامی
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ

دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب لیکچرز

قرآن مجید اور سنت نبوی میں عبادت سے متعلق عملی احکامات
Economics & Finance دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ اکنامکس اور فائنانس
Finance & Social Sciences دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ معاشرت اور سوشل سائنسز 
 (Political Science) دور جدید میں فقہ سے متعلق سوالات کا جواب  ۔۔۔ سیاست 
(Schools of Thought) علم الفقہ کی تاریخ اور فقہی مکاتب فکر

امت مسلمہ کی علمی، فکری، دعوتی اور سیاسی تاریخ

BC 250,000 to 610CE نبوت محمدی سے پہلے کا دور ۔۔۔ حضرت آدم سے لے کر محمد رسول اللہ کی نبوت تک
571CE-632CE عہد رسالت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مذہبی، علمی، دعوتی، سیاسی  اور تہذیبی تاریخ
عہد صحابہ اور جدید ذہن کے شبہات
عہد صحابہ اور تابعین کی سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 632-750
 امت مسلمہ کی تہذیبی عروج کا دور : سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ750-1258
 تہذیبی جمود اور زوال کا دور اور پھر  ریکوری: سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1258-1924
 امت مسلمہ  کی  ریکوری  کا دور  ۔۔۔  سیاسی، مذہبی، علمی، دعوتی اور تہذیبی تاریخ 1924سے آج تک
اسلام میں جسمانی اور ذہنی غلامی کے انسداد کی تاریخ
مسلم دنیا اور ذہنی، نفسیاتی اور فکری غلامی
نفسیاتی، فکری اور ذہنی غلامی کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟

Comments on “The History of Abolition of Physical & Intellectual Slavery in Islam”

Interest Transactions & Indexation قرضوں پر انڈیک سنگ کا مسئلہ
Scroll to top